زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 242
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 242 جلد اول کیونکہ مسیح موعود کی وجہ سے تم آگے ہی آگے ترقی کر رہے ہو۔دیکھو جتنے لمبے عرصہ سے تمہاری عزت قائم ہے کوئی بڑے سے بڑا سیاسی لیڈر ایسا نہیں بلکہ یورپ کا بھی کوئی سیاسی لیڈر ایسا نہیں جسے اتنا عرصہ عزت حاصل رہی ہو۔حضرت مسیح موعود کے وصال کے بعد جو لوگ ممتاز ہوئے ان کے امتیاز پر آج 17 سال گزر رہے ہیں۔مگر یورپ کے لوگوں کو دیکھو مسٹر لایڈ جارج (GEORGE LLOYD ) آج سے چھ سال پہلے انگلستان میں اس قدر عزت اور شہرت رکھتا تھا کہ جس کی کوئی حد نہ تھی مگر آج وہ جو تیاں چٹخاتا پھرتا ہے اور کوئی پوچھتا نہیں۔غرض کوئی ایک بھی مدبر اور سٹیٹسمین ایسا نہیں جس کی اتنا لمبا عرصہ عزت قائم رہی ہو۔اپنے ملک کے لیڈروں کو ہی دیکھ لو۔آج جسے سروں پر بٹھایا جاتا ہے کل اوندھے منہ گرا دیا جاتا ہے۔مولوی عبد الباری صاحب فرنگی محلی کو ایک وقت مجدد کی حیثیت دی جاتی تھی حتی کہ مولوی محمد علی اور شوکت علی صاحبان نے بھی ان کی بیعت کر لی تھی مگر آج انہیں کوئی پوچھتا نہیں۔آریوں میں لالہ منشی رام صاحب بڑی عزت رکھتے تھے مگر ان کے خلاف بھی بڑے بڑے اشتہارات شائع ہوئے اور ان پر طرح طرح کے الزام لگائے گئے مگر تم لوگ حضرت مسیح موعود کے طفیل ایسے مقام پر ہو کہ تمہیں اس قسم کی تشویش نہیں۔یہ محض خدمت دین کے باعث ہے۔اگر ہم اس کی قیمت کا اندازہ نہ لگائیں تو یہ ہماری سخت احسان فراموشی ہوگی۔یہ خدا تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے اور اس اطمینان کو غنیمت سمجھنا چاہئے اور خدا کے جلال کے لئے اپنی زندگی کی ہر گھڑی خرچ کرنی چاہئے۔میں نے کل ایک دعوت میں بیان کیا تھا کہ اہل عرب کے ہم پر بہت بڑے احسان ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ ہم تک اسلام پہنچا۔ہما را رونگھا رونگھا ان کے احسان کے نیچے دبا ہوا ہے۔ان کا بدلہ دینے کے لئے ہمارے یہ مبلغ وہاں جا رہے ہیں۔ان میں سے سید ولی اللہ شاہ صاحب پردہری ذمہ داری ہے کیونکہ انہوں نے علم بھی اس ملک سے حاصل کیا ہے۔اب ان کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ان لوگوں کو روحانی علم دیں۔مگر ساتھ ہی یہ خیال رکھنا چاہئے کہ وہ