زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 241
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 241 جلد اول ایسا آدمی ہے کہ اپنے وجود کو اس کے لئے فتا کرنے کے لئے تیار ہے تو اسے ایسی عزت حاصل ہے جو بادشاہت سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ اگر کوئی بادشاہ ہومگر اسے یہ خطرہ ہو کہ شاید کوئی مجھے مار ڈالے یا میری بات نہ مانے تو وہ باعزت نہیں کہلا سکتا۔باعزت وہی ہے کہ خواہ اس کے ساتھ ایک ہی آدمی ہو مگر اس کے لئے ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہو۔یہ بات ہماری جماعت میں حاصل ہے۔جنہوں نے اس میں شامل ہو کر دین کی خدمت کی ان سے اخلاص اور محبت رکھنے والی ایسی جماعت ہے جو ان کی خاطر اپنا آرام و آسائش قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔اس کے دل میں ان کا ادب ایسا راسخ ہو گیا ہے کہ کوئی چیز اسے نکال نہیں سکتی۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود کی برکت ہے۔اگر حضرت مسیح موعود نہ آئے ہوتے تو ہم بھی انہی پراگندہ طبع اور پراگندہ خیالات لوگوں کے میں سے ہوتے جو مسلمان کہلاتے ہیں۔ہم میں سے اگر کوئی مجسٹریٹ ڈپٹی یا گورنر بھی ہو جاتا تو بھی کیا ایسی عزت حاصل کر سکتا تھا جیسی احمدی ہو کر حاصل ہوئی ہے۔کیا اس وقت اس کے ساتھ محبت اور پیار کرنے والے، اس سے اخلاص رکھنے والے اور اس کے لئے قربانی کرنے والے اسی طرح لوگ ہوتے جس طرح اب ہیں۔اس صورت میں یہ حالت ہوتی کہ ظاہر میں تو اس کا ادب کرتے مگر دل میں گالیاں دیتے۔یا اگر سیاسی لیڈر ہوتے تو اول تو یہ میدان اس قدر وسیع ہے کہ نہ معلوم ان کا ٹھر کا نا کہاں ہوتا۔مگر فرض کر لو اس میدان میں کسی کو وہی درجہ حاصل ہو جاتا جو گاندھی جی کو حاصل ہوا تو پھر بھی کیا ہوتا۔دیکھ لو آج ان کا کیا حال ہے۔وہ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ اب میرا اثر نہ مسلمانوں پر ہے اور نہ ہندوؤں پر۔نہ مسلمان میری بات مانتے ہیں نہ ہندو۔اس سے ظاہر ہے کہ سیاسی لیڈروں کو جو قوم ایک وقت تخت پر بٹھاتی ہے وہی دوسرے وقت لاتوں سے پکڑ کر نیچے گھسیٹ لاتی ہے۔مگر تم حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ایسے تخت پر بٹھائے گئے ہو کہ جس سے کوئی گرانے والا نہیں ہے بلکہ دن بدن عزت اور توقیر بڑھ رہی ہے۔اور تم اس طرح مطمئن ہو جیسے کوئی بڑے سے بڑا جرنیل اور بادشاہ بھی اپنی فوج میں مطمئن نہیں ہو سکتا