زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 243

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 243 جلد اول مبلغ کی حیثیت سے نہیں جار ہے بلکہ مدیر کی حیثیت سے جارہے ہیں۔ان کا کام یہ دیکھنا ہے کہ اس ملک میں کس طرح تبلیغ کرنی چاہئے۔مبلغ کی حیثیت سے مولوی جلال الدین صاحب جا رہے ہیں ان کو اسی مقصد کے لئے اپنا وقت صرف کرنا چاہئے تا کہ ان کے جانے کا مقصد فوت نہ ہو جائے۔انہیں اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ ہر کام کی نوعیت اپنے اثرات کے لحاظ سے اچھی یا ئمری ہوتی ہے۔میں طبعی طور پر اپنے قلب میں محسوس کرتا ہوں که تبلیغ کا کام مجھے نہایت پسندیدہ ہے۔بچپن میں اگر میرے دل میں آئندہ زندگی کے متعلق کوئی احساس تھا تو یہی کہ دنیا میں تبلیغ کے لئے نکل جاؤں گا۔مگر باوجود اس خواہش کے خدا تعالیٰ نے ایسا کام سپرد کیا کہ مرکز میں رہوں اور سوائے کسی اشد ضرورت کے باہر نہ نکلوں۔میں نے اپنے لئے یہی فیصلہ پسند کیا گو طبعی طور پر اس میں بعض ایسی باتیں ہیں کہ جو میری فطرت کے خلاف ہیں مگر یہ فیصلہ اس فیصلہ سے بے انتہا بہتر ہے جو ہماری عقل تجویز کرتی ہے۔ہماری تمام ذلتیں ( ہماری سے مراد جماعت احمد یہ نہیں بلکہ سارے مسلمان ہیں ) ہماری تمام تباہیاں اور ہماری تمام بر بادیاں اس لئے ہیں کہ ہمیں یہ خیال نہیں کہ کوئی کام اس وقت تک عمدگی سے نہیں ہو سکتا تھا جب تک مضبوط مرکز نہ ہو۔دراصل اس سے بڑی قربانی کوئی نہیں ہو سکتی کہ انسان اس کام میں لگ جائے جس کے بظاہر نتائج نہ نکلتے ہوں خواہ حقیقت میں اس کے نتائج بہت وسیع ہوں۔مثلاً قادیان میں رہ کر جو لوگ کام کرتے ہیں ان کا کام مبلغوں کے کام کے مقابلہ میں نمایاں نہیں ہوتا اور بعض لوگ کہتے بھی ہیں کہ وہ کیا کرتے تھے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ قادیان میں خموشی سے کام کرنے والا اس شخص سے بہت زیادہ ذمہ دار ہے جو کسی ملک کو احمدی بنا رہا ہوتا ہے کیونکہ گھوڑے کی باگ اس کے ہاتھ میں ہے۔اور مسلمانوں کی تباہی اسی وجہ سے ہوئی ہے کہ ان کا کوئی مضبوط مرکز نہ رہا۔اگر مضبوط مرکز ہوتا تو اس طرح تباہ نہ ہوتے اور اس طرح چیلوں اور گدھوں کی خوراک نہ بنتے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ جس کام کے لئے مقرر کیا گیا ہے گو وہ طبعی خواہش اور