زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 240
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 240 جلد اول ہے اور اپنا نمونہ نہیں رکھتی تا حال اس پر عمل نہیں کیا حالانکہ وہ میری طرف سے نہ تھی بلکہ مسیح موعود کی طرف سے ہی تھی۔اور وہ یہ کہ مباحثات کو ترک کردو۔میرے نزدیک وہ شکست ہزار درجہ بہتر ہو جو لوگوں کے لئے ہدایت کا موجب ہو بہ نسبت اس فتح کے جو لوگوں کو حق سے دور کر دے۔کیونکہ اس قسم کی فتح میں نفس کی کامیابی ہو گی۔مگر اس شکست سے لوگوں کو ہدایت نصیب ہو گی۔پس ایک دفعہ پھر جبکہ ہمارے مبلغ تبلیغ کے لئے جا رہے ہیں انہیں اور دوسروں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ مباحثات کو چھوڑ دیں اور ایسی طرز اختیار کریں جس سے دوسروں کے ساتھ ہمدردی ، خدا تعالیٰ سے خشیت اور ڈر ظاہر ہو۔ان کے مد نظر ایک ہی غرض ہو اور وہ یہ کہ خدا کا جلال ظاہر ہو۔اپنی نفسانیت کو بالکل ترک کر دیا جائے اور اپنے آپ کو مقدس رسول کا حلقہ بگوش ثابت کیا جائے مگر یہ بات بغیر نفس کو مارے اور شکست قبول کرنے کے پیدا نہیں ہو سکتی۔اور جن لوگوں میں یہ مادہ نہیں کہ نفس کی خواہش کو خدا کے جلال کے لئے قربان کر دیں وہ خدا کی راہ میں قربانی کرنے والے نہیں کہلا سکتے۔اگر کوئی شخص سو میں سے 99 باتوں میں قربانی کرتا ہے مگر ایک بات میں نہیں کرتا تو معلوم ہوا کہ اس کی نظر میں ان 99 باتوں کی کوئی قدر نہ تھی اور اس ایک بات کی تھی جسے اس نے قربان نہ کیا۔پس جانے والے مبلغوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سفر اور حضر میں اس بات کو مد نظر رکھیں کہ ان کی تمام گفتگوؤں کا ایک ہی مقصد اور مدعا ہو۔اور وہ یہ کہ خدا کا جلال اور اس کی شان ظاہر ہو نہ یہ کہ ان کے نفس کی فتح ہو۔پھر میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس سلسلہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ہم پر بڑے بڑے احسان کئے ہیں۔شاید کبھی کسی کے دل میں خیال آیا ہو کہ ہم نے سلسلہ کے لئے کچھ قربانی کی ہے۔لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو کہ اس سلسلہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ان عزتوں کے سامان کئے ہیں جو اور ذریعہ سے حاصل ہی نہیں ہو سکتیں۔عزت کسی بڑے جتھے کا نام نہیں، مال و دولت کا نام نہیں، عزت اس چیز کا نام ہے کہ کسی کے لئے کس قدر لوگ قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہیں۔اگر کسی شخص کے ساتھ ایک ہی آدمی ہے اور وہ