زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 239
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 239 جلد اول بہتوں سے کم ہو گا۔اس پر جب خدا کا ہا تھ آ گیا تو اس میں ایسی طاقت پیدا ہو گئی کہ اس کا وجود خدا کا وجود ہو گیا۔اب وہی دروازہ ہمارے لئے بھی کھلا ہے۔اگر ہم کامیاب ہوں گے تو صرف اس لئے کہ خدا ہماری مدد کرے گا۔اگر خدا تعالی مدد نہ کرے تو اپنے مدعا میں ہم کامیاب نہیں و سکتے اور یقیناً نا کا می ہمارے حصہ میں آئے۔پھر یہی نہیں بلکہ ہماری مثال وہی ہو جو کسی شاعر نے بیان کی ہے نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے کے رہے ساری دنیا سے ہم نے بگاڑ لی، دنیا ہمیں واجب القتل قرار دیتی ہے۔اور نہ صرف اسے جائز فعل کہتی ہے بلکہ کارثواب سمجھتی ہے۔چنانچہ ہم نے سنا ہے کابل میں ہمارے شہداء کے مارے جانے پر وہاں سے بعض لوگوں نے ہندوستان میں خط لکھے کہ ہم نے تمہارے نام پر ان پر تین تین پتھر پھینکے۔یہ تو ہمارے وجود کی قیمت ہے۔حکومتوں اور سلطنتوں سے ہمیں حفاظت حاصل نہیں۔پس اگر ساری دنیا کو ناراض کر کے اور اپنے خلاف بھڑ کا کر خدا تعالیٰ کی مدد، نصرت اور فیضان بھی حاصل نہ ہو تو ہمارے جیسا بد بخت۔اور کوئی نہ ہوگا۔اس وقت میں تبلیغ پر جانے والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اندرا خلاص ، ایمان اور جذب پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق جوڑیں کہ خدا تعالیٰ ان کے ہاتھوں، زبانوں، حرکات ، سکنات، خیالات، جذبات اور شعور میں داخل ہو جائے۔ہر چیز جوان سے تعلق رکھتی ہے وہ خدا میں سے ہو کر ظاہر ہو اور ان کا وجود اس طرح مٹ جائے کہ اس کا پتہ ہی نہ رہے۔اس کے لئے میں ان کو نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ اب تک ہماری جماعت سے ایک غلطی ہوئی ہے میں نے بار ہا اس سے روکا بھی ہے مگر اس جماعت نے جو اخلاص میں بے نظیر