زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 227
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 227 جلد اول سرج کا تھا) اور اس نے یہی سمجھ لیا کہ ایسا کوٹ پہنے سے خدا سے تعلق نہیں ہوتا۔بہت سے لوگ حضرت صاحب پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ پلاؤ کھاتے ہیں۔قادیان میں ایک ہندو ڈ پٹی تھا اس نے حضرت خلیفہ اول کو کہا کہ اگر آپ ناراض نہ ہوں تو ایک بات میں پوچھنا چاہتا ہوں۔مولوی صاحب نے کہا پوچھئے تو اس نے کہا کہ سنا ہے مرزا صاحب با دام روغن استعمال کرتے ہیں۔مولوی صاحب نے کہا کہ ہمارے ہاں حلال ہے۔میرا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کی حالت اور ہے۔وہاں لوگ خدا پرستی اور کمال کا اندازہ ایسی چیزوں سے کرتے ہیں جن کا ان باتوں سے تعلق نہیں اور وہاں صفائی کا نہ ہونا معیوب نہیں سمجھتے۔مگر یہاں یہ حالت نہیں اس لئے مکان کی اور باغ کی اور اپنی صفائی کا خیال رکھنا چاہئے۔یہ صرف اسی لئے ضروری نہیں کہ یہاں ان باتوں کا اثر پڑتا ہے بلکہ اسلام نے خود اس کو ضروری قرار دیا ہے پس ان ظاہری امور کا خیال رکھو۔اگر کسی امر میں افسر ماتحت میں اختلاف ہو تو ماتحت کا فرض ہے کہ وہ افسر کے احکام کی اطاعت اور تعمیل کرے۔البتہ اسے یہ حق ہے کہ وہ اپنے اختلاف کے متعلق بطور اپیل پیش کرے۔شکایت کے طور پر نہ ہو۔جو بلا وجہ پیش کرتا ہے وہ غیبت کرتا ہے اس سے بچو۔اسی طرح بعض اوقات افسر دیکھتا ہے کہ ماتحت با قاعدہ کام نہیں کرتا یا اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ لکھتا ہے کہ میں شکایت نہیں کرتا مگر وہ ایسا کرتا ہے یہ بزدلی کی بات ہے۔صاف طور پر لکھنا چاہئے۔ایسا ہی ماتحت جب لکھے تو وہ مثال اور واقعات کی بناء پر لکھے۔یونہی کسی بات کا بلا وجہ معقول پیش کر دینا قابل غور نہیں ہوگا۔افسر کو چاہئے کہ جرات سے کام لے۔جب تک جرات سے کام نہ ہو وہ نہیں ہوسکتا۔بزدلی سے یہی نہیں کہ کام نہیں ہوتا بلکہ خراب ہوتا ہے اور فساد بڑھتا ہے۔باقی کام کی تفاصیل اور ہدایات بتا دی جائیں گی۔مبلغ کا فرض ہوگا کہ ہمارے جو طالب علم آتے ہیں ان کو شریعت کی پابندی کرائے۔دل نہ چرائے۔چھوٹی سے چھوٹی بات کا بھی خیال رکھا جاوے۔بعض وقت انسان پر ایسے