زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 226
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 226 جلد اول عیسائی مذہب میں جو یہ فرقے یومیٹرین وغیرہ پیدا ہوئے ہیں یہ اسی طرح ہوئے ہیں۔اگر اس طریق پر عمل ہو تو کچھ عرصہ کے بعد ہمارا سوشل رسوخ بڑھ جائے گا اور لوگ باتیں سننے لگیں گے۔اسی طرح طلاق کا مسئلہ ہے۔اس مسئلہ کے ماہر جو قانون دان ہیں یا قانون ساز کمیٹیوں کے ممبر ہیں ان سے ملو اور ان کو اسلام کی مکمل تعلیم مسئلہ طلاق کے متعلق بتاؤ۔جب وہ اس مسئلہ کے سارے پہلوؤں کو دیکھیں گے تو اسلام کی تعلیم کو مکمل اور ہر طرح قابل عمل اور ضروری یقین کرنے لگیں گے۔اس طرح پر جو غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں وہ دور ہو جائیں گی اور جب ایک علمی اور قانون دان طبقہ کی طرف سے اس کی تائید اور تصریح ہوگی تو آسانی ہو جائے گی۔غرض اپنے کام کے متعلق پہلے سے غور کرو کہ کس طرح پر وہ زیادہ مفید اور با اثر ہو سکتا ہے۔کام کرنے والے کی نگاہ ایک طرف نہ ہو بلکہ اسے چاہئے کہ چاروں طرف نگاہ رکھے جرنیل کا یہی کام ہے۔جو لوگ یہاں تحقیق، تعلیم یا تبادلۂ خیالات کے لئے آئیں ان کے متعلق اس امر کا خاص طور پر خیال رکھا جاوے کہ کوئی ایسی حرکت نہ ہو جس سے ان کو یہ احساس ہو کہ ہماری ہتک کی گئی ہے۔بلکہ ان سے اخلاق اور تکریم سے پیش آؤ کہ یہ ہمارا فرض ہے۔اگر کوئی بات ان کی ناپسند بھی ہو تو اپنے اخلاق سے اسے درست کرو۔ظاہری صفائی کا خاص طور پر خیال رکھا جاوے اسلام اس کی ہدایت کرتا ہے۔اور یہاں تو یہ حالت ہے کہ اس کا دوسروں پر اثر پڑتا ہے۔ہمارے ملک میں تو جس قدر کوئی غلیظ ہولوگ اسے صوفی کہہ دیں گے مگر یہاں یہ بات نہیں۔پنجاب میں ایک شخص کو تبلیغ کی جاتی تھی اور اسے کچھ توجہ بھی تھی مگر پرنس آف ویلز کے جانے پر جب کہ میں بھی لاہور گیا تو اس نے مجھے دیکھا اس کے بعد جب اس کو تبلیغ کی گئی تو اس نے کہا میں کیسے مان لوں کیونکہ اس نے تو بانات کا کوٹ پہنا ہوا تھا۔(کوٹ تو