زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 219

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 219 جلد اول ہیں۔پس ایسے کام پر خوشی کا اظہار جس کو اپنے لئے موت سمجھا جائے باعث خوشی نہیں۔اگر مدرسہ ہائی کے طلباء ایسے ابتلاء کے برداشت کرنے کے لئے خوشی سے تیار ہیں تو بڑی مسرت کی بات ہے اور ان کا ایڈریس سچا ایڈریس ہے۔اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ مفتی صاحب کو عزت ملی ہے اور مفتی صاحب کا یہ فعل ان کی دنیاوی ترقی میں روک نہیں ہوا تو آپ بھی اس پر تیار ہوں۔رسول کریم ﷺ نے اسلام کے لئے ایک مثال بیان فرمائی تھی کہ اسلام کی کفر کے مقابلہ میں یہ حالت ہے جیسے ایک سفید رنگ کی گائے ہو اور اس کے چند کالے بال ہوں۔یہ اُس وقت کی حالت ہے جب کہ نبی کریم ﷺ کو غلبہ حاصل ہو چکا تھا۔لیکن احمدیوں کے پاس تو ابھی وہ سامان نہیں جو رسول کریم ﷺ کو حاصل تھے۔اور مخالفین اسلام کی آبادی اب پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے اس لئے اب یہ مثال ہے کہ کالا بال ایک ہے باقی سب سفید ہیں۔ہر طرف آدمیوں کی ضرورت ہے ہر ملک تبلیغ کا محتاج ہے مگر ہماری یہ حالت ہو کہ اگر ہمارے نوجوان یا ان کے مشیر یہی سمجھتے رہیں کہ تبلیغ دین کے لئے زندگی وقف کرنا مناسب نہیں یا باعث نقصان ہے یا ہماری شان سے نیچے ہے تو ایسے لوگوں کا کب حق ہو سکتا ہے کہ کسی مبلغ کی واپسی پر خوشی کا اظہار کریں۔اس لئے میں اپنے بچوں کو جو کل جوان ہوں گے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ابھی سے اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے تیار کریں۔اور اگر ان کے راستہ میں کوئی روک ڈالے تو اس بارے میں اس کی بات نہ سنیں۔اگر وہ اس کام کے لئے تیار نہیں ہوں گے اور ان کے دل اس ایڈریس میں ان کے ساتھ نہیں ہوں گے تو اس کی خدا کے نزدیک اور بندوں کے نزدیک بھی کوئی قیمت نہیں۔مگر میں اپنے ان بچوں سے امید کرتا ہوں کہ ان کے دلوں میں ضرور خدمت دین کا جوش ہو گا اور واقعی مفتی صاحب کی واپسی سے خوش ہوں گے۔اور مفتی صاحب کے کام کو قابل قدر اور ایسا سمجھتے ہوں گے کہ خود بھی کریں۔اس لئے میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے ارادے پورے کرنے کی توفیق دے اور ان کو موقع عطا فرمائے کہ خدمت دین