زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 15

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 15 جلد اول سوال و خوشامد کی عادت نہ ڈالو پھر نفس کے لئے لجاجت، خوشامد ،سوال کی عادت نہیں ہونی چاہئے۔یہ بھی علماء میں بڑا بھاری نقص ہے کہ وعظ کیا اور بعد میں کچھ مانگ لیا۔اور اگر کوئی ایسا گرا ہوا نہ ہوا تو اس نے دوسرے پیرایہ میں اپنی ضرورت جتادی۔مثلاً ہمارا کنبہ زیادہ ہے گزارہ نہیں ہوتا یا کسی دوسرے الفاظ میں لوگوں کو سنا دیا کہ کچھ روپے کی یا کوٹ وغیرہ کی ضرورت ہے۔ایسا نہیں ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ پر توکل چاہئے۔اسی سے مانگنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا تھا کہ تیرے پاس ایسا مال لایا جائے گا کہ مال لانے والوں کو الہام ہوگا کہ مسیح موعود کے پاس لے کر جاؤ۔پھر وہ مال آتا تھا۔کوئی کہتا تھا کہ حضور مجھے فلاں بزرگ نے آکر خواب میں کہا اور کوئی کہتا تھا حضور مجھے الہام ہوا۔اللہ پر توکل کرو وہ خود تمہارا کفیل ہوگا میرا اپنا تجربہ ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ کہیں نہ کہیں سے بھیج دیتا ہے۔خدا تعالیٰ خود لوگوں کے دلوں میں تحریک کرتا ہے۔جو دوسروں کا محتاج ہو پھر اس کے لئے ایسا نہیں ہوتا۔ہاں اللہ تعالیٰ پر کوئی بھروسہ کرے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے سامان پیدا کرتا ہے۔حضرت مولوی صاحب سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مجھے کچھ ضرورت پیش آئی۔میں نے نماز میں دعا مانگی مصلیٰ اٹھانے پر ایک پونڈ پڑا تھا۔میں نے اسے لے کر اپنی ضرورت پر خرچ کیا۔تو خدا تعالیٰ خود سامان کرتا ہے۔کسی کو الہام کرتا ہے۔کسی کو خواب دکھاتا ہے اس طرح اس کی ضرورت پوری کرتا ہے۔لیکن کبھی اس طرح پر بھی ہوتا ہے کہ وہ ضرورت ہی نہیں رہتی۔ابتدائی مرحلہ یہی ہے کہ اس کی ضروریات ہی نہیں بڑھتیں اور اگر ضروریات پیش آتی ہیں تو پھر ایسے سامان کئے جاتے ہیں کہ وہ مٹ جاتی ہیں۔مثلاً ایک شخص بیمار ہے اب اس کے لئے دوائی وغیرہ کے لئے روپوں کی ضرورت ہے۔دعا کی ، بیمار ہی اچھا ہو گیا تو اب روپوں کی ضرورت ہی پیش نہ آئی۔تو ابتدائی مرحلہ یہی ہے کہ ضرورت پیش ہی نہیں آتی۔