زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 16

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 16 جلد اول پہلی حکمت یہ ہے کہ وہ لوگوں کا محتاج ہی نہیں ہوتا۔دوسری حکمت یہ ہے کہ لوگوں کا رجوع اس کی طرف ہو جاتا ہے خدا خود لوگوں کے ذریعے سے سامان کراتا ہے۔ہمارے سلسلے اور دوسرے مولویوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو ان کو لوگ خود نذر پیش کرتے ہیں اور مولوی ما نگتے پھرتے ہیں۔ایک پیر تھا وہ ایک اپنے مرید کے گھر گیا۔وہ مرید ا سے جب وہ آتا تھا ایک روپیہ دیا کرتا تھا۔اس دن اس نے ایک اٹھنی پیش کی۔پیر نے لینے سے انکار کیا اور کہا کہ میں تو رو پیدلوں گا۔غرض وہ اٹھنی دیتا تھا وہ روپیہ مانگتا تھا۔بہت تکرار کے بعد اس مرید نے کہا جاؤ میں نہیں دیتا۔تمام رات وہ پیر باہر کھڑا رہا۔رات کو بارش ہوئی تھی اس میں بھیگا۔صبح کہنے لگا کہ اچھالا ؤ اٹھنی۔تو یہ حالت ہوتی ہے جو دوسروں کے محتاج ہیں۔زلزلے کا ذکر ہے۔باہر باغ میں ہم ہوتے تھے۔حضرت صاحب کو ایک ضرورت پیش آئی۔فرمانے لگے قرض لے لیں۔پھر فرمانے لگے قرضہ ختم ہو جائے گا تو پھر کیا کریں گے۔چلو خدا سے مانگیں۔نماز پڑھ کر جب آئے تو فرمانے لگے ضرورت پوری ہو گئی۔ایک شخص بالکل میلے کچیلے کپڑوں والا نماز کے بعد مجھے ملا۔اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کر کے اس نے ایک تھیلی نکال کر دی۔اس کی حالت سے میں نے سمجھا کہ یہ پیسوں کی تھیلی ہوگی۔کھولا تو معلوم ہوا کہ دو سو روپیہ ہے۔تو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی حاجات کو جو اس پر تو کل رکھتے ہیں اس طرح پورا کیا کرتا ہے۔تم کبھی دوسرے پر بھروسہ نہ رکھو۔سوال ایک زبان سے ہوتا ہے اور ایک نظر سے۔تم نظر سے بھی کبھی سوال نہ کرو۔پس جب تم ایسا کرو گے تو پھر خدا تعالیٰ خود سامان کرے گا۔اس صورت میں جب کوئی تمہیں کچھ دے گا بھی تو دینے والا پھر تم پر احسان نہیں سمجھے گا بلکہ تمہارا احسان اپنے اوپر سمجھے گا۔مبلغ کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر خادمانہ لوگوں سے تعلقات حیثیت رکھے۔لوگوں نے یہ نکتہ نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت