زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 14

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 14 جلد اول سے لوگ ہیں جو روزہ رکھنے میں سستی کرتے ہیں۔روزہ انسان کی حالت کو خوب صاف کرتا ہے جہاں تک توفیق مل سکے روزہ رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بعض ایسے مواقع تلاش کرے جن میں کسی سے کلام نہ کرے۔خاموش ہو کر بیٹھے۔خواہ یہ وقت پندرہ ہیں منٹ ہی ہو۔بہت وقت نہ سہی مگر کچھ وقت ضرور ہونا چاہئے تا کہ خاموشی میں ذکر کرے۔تبلیغ سے ذرا فراغت ہوئی تو ذکر الہی کرے۔اس کے لئے یہ بہت مفید وقت ہے۔سورج نکلنے سے پہلے صبح کی نماز کے بعد۔پھر سورج ڈوبنے کے قریب۔پھر نماز عشاء کے بعد اور 9 بجے دن سے لے کر دس بجے دن تک کسی وقت کر لینا چاہئے۔یہ تو اپنے نفس کی اصلاح ہے۔تبلیغ کے کام میں مطالعہ بہت وسیع چاہئے۔بعض دفعہ اجڑ گنوار آدمی آ کر کچھ سناتے ہیں اور وہ بہت لطیف بات ہوتی ہے۔سلسلے کی کتابوں کا مطالعہ رہے۔حضرت صاحب کی کتا ہیں اور پھر دوسرے آدمیوں کی کتابیں اتنی اتنی دفعہ پڑھو کہ فوراً حوالہ ذہن میں آ جائے۔ایک مرض مولویوں میں ہے۔یاد رکھو مولوی کبھی کتاب کتابیں اپنی خرید و تمہیں خریدتے۔اس کو لھو یا اسراف کجھتے ہیں۔شاذ و نادر زیادہ سے زیادہ مشکوۃ رکھ لی اور ایک کا فیہ رکھ لیا۔لیکن انسان کے لئے جہاں وہ اور بہت سے چندے دیتا ہے کتاب خرید نانفس کے لئے چندہ ہے۔کچھ نہ کچھ ضرور کتاب کے لئے بھی نکالنا چاہئے خواہ سال میں آٹھ آنہ کی ہی کتاب خریدی جائے۔یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ لاکھوں کی ہی کتابیں خریدی جائیں بلکہ جس قدر خرید سکو خریدو۔یہ اس لئے کہ خریدنے والا پھر اسی کتاب کا آزادی سے مطالعہ کر سکے گا اور اس طرح اس کے علم میں اضافہ ہوگا فراست بڑھے گی۔بعض جگہ ہمارے مولوی جاتے ہیں اور وہاں کے لوگوں کی کتابیں لیتے ہیں لیکن جب وہاں سے چلنے لگتے ہیں تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری کتابیں لاؤ پھر دینی پڑتی ہیں۔تو دوسری بات اپنی کتابیں خریدنے سے یہ ہوتی ہے کہ آزادی پیدا ہوتی ہے احتیاج نہیں ہوتی۔