زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 178

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 178 جلد اول کا مستحق ہوتا ہے۔لیکن اگر کوئی خالی ہاتھ خدا تعالیٰ کے حضور جاتا ہے تو کبھی خالی نہیں آتا۔اگر اس کی درخواست سنت اللہ کے خلاف نہ ہو اور اگر کوئی بات خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے خلاف نہیں تو ناممکن ہے کہ خالی ہاتھ واپس آئے۔اور ایسے شخص اگر ایک سونہیں ، ایک ہزار نہیں اگر ایک لاکھ بھی جائیں گے تو اپنی دعا قبول کر ا کر آئیں گے۔پس تم دعاؤں پر زور دو مگر یہ بھی یا درکھو کہ دعائیں اسی وقت قبول ہوتی ہیں جب اپنی طرف سے پورے زور اور طاقت سے کام کیا جائے لیکن اگر تم محنت نہیں کرتے یا سوچ سمجھ کر کام نہیں کرتے تو تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔دعا ئیں جب قبول ہوتی ہیں جب کوئی اپنے کام کے متعلق سوچے اور اپنی طرف سے پوری پوری محنت کرے۔اس کے بعد جب کچھ نہ بنے تو خدا تعالیٰ غیب سے کامیابی کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔اور عین اس وقت کی جب انسان ناکامی کو دیکھتا ہے کامیابی کے بادل اسے سامنے سے لہراتے نظر آتے ہیں۔سیہ دونوں باتیں کافی ہیں اگر تم ان پر عمل کرو گے۔اس کے بعد میں وہ شرائط دہرا دیتا ہوں جو اس کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے والوں کے لئے رکھی گئی تھیں۔پہلے کچھ ایسے لوگ چلے گئے جن کے پاس کافی خرچ نہ تھا اور انہیں دفتر سے مانگنا پڑا۔کچھ ایسے لوگ چلے گئے جنہوں نے وعدہ تو کیا تھا کہ ہر قسم کی تکالیف برداشت کریں گے مگر برداشت نہ کیں۔پھر ایسے بھی گئے کہ جو ان کے پاس خود آ گیا اس کو تو پڑھا دیا اور جو نہ آیا اس کی انہوں نے خبر نہ لی اور نہ اس کے پاس گئے حالانکہ یہ صاف بات ہے کہ روحانی معالج اور جسمانی ڈاکٹر کی حالت میں بڑا فرق ہے۔جسمانی مریض تو خود ڈاکٹر کے پاس کو آتے ہیں اور روحانی ڈاکٹر کو خود ان کے پاس جانا اور ان کا علاج کرنا ہوتا ہے۔پھر بعض نے اپنے افسروں کی فرمانبرداری پورے طور پر نہیں کی حالانکہ اقرار یہ ہے کہ فوجی سپاہیوں کی طرح فرمانبرداری کریں گے۔اور جانتے ہو فوجی سپاہی کیسی فرمانبرداری کرتے ہیں؟ جنگ میں ایک توپ خانہ فوج کے پیچھے ہوتا ہے جس کی ایک غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر اپنے سپاہی پیچھے بھا گئیں تو انہیں وہیں بھون ڈالے۔میں نے ایک دوست سے