زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 177
177 جلد اول زریں ہدایات (برائے مبلغین ) نازل ہوئی کہ یہ معلوم ہونے لگا دشمن کا حملہ کچھ بھی نہ تھا۔پس ہماری کامیابی کا رستہ ایک ہی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت ہے۔مگر جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اس کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنی انتہائی طاقت خرچ کر دے۔لیکن اگر ایسا نہ کرے اور پھر خدا کی مدد مانگے تو خدا تعالیٰ کی غیرت اس کے خلاف بھڑکتی ہے۔دعائیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک وہ جس میں اپنا بجز اور انکسار ہوتا ہے اور دوسرے وہ جس میں خدا کی رحمت کو جذب کرنا ہوتا ہے۔قسم اول کی دعائیں تو انسان ہر وقت کر سکتا ہے کہ میرے رستہ میں کوئی روک نہ پیدا ہو، مجھے کامیابی نصیب ہو۔مگر دوسری قسم ایسی ہے کہ اس وقت کی جاسکتی ہے جب اپنے پلے کچھ نہ رہے۔دیکھو اگر ایک شخص یہ کہ کر کسی سے مانگے کہ میرے پاس کچھ نہیں لیکن اس کے پاس سے مال نکل آئے تو اس سے کیا سلوک کیا جائے گا۔اسی طرح جو شخص اپنی پوری قوت اور ساری طاقت صرف کئے بغیر خدا کی نصرت اور مدد کا طالب ہوتا ہے اس سے یہی سلوک ہوتا ہے۔وہ خدا کی نصرت حاصل کرنے کی بجائے اس کا غضب اپنے اوپر وار د کر لیتا ہے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے کہ ایک ہندوستانی عرب سے آ رہا تھا راستہ میں اس نے ایک عرب سے کہا مجھے کھانے کو کچھ دو مگر مجھ سے اجر کی امید نہ رکھو کیونکہ میرے پاس ایک پیسہ بھی نہیں ہے۔یہ سن کر عرب کا چہرہ متغیر ہو گیا وہ اٹھا اور اٹھ کر اپنے تربوزوں کے کھیت میں گیا۔تربوز توڑے اور دیکھے، پھر توڑے اور دیکھے اور جو عمدہ نکلے وہ اس شخص کو کھلاتا جائے۔جب اس کا پیٹ بھر گیا تو اس نے اس کے کپڑے اتروا کر تلاشی لی اور کہا اب جاؤ۔اس نے اس کی وجہ پوچھی تو عرب نے کہا جب تو نے آ کر کہا میرے پاس کچھ نہیں ہے تو میں نے یہ کھیت جو میری بیوی بچوں کا سہارا تھا تیری خاطر برباد کر دیا اور جو بہتر سے بہتر تربوز تھا وہ تجھے کھلا یا اب ہمارا اللہ ہی حافظ ہے۔اگر تیرے پاس سے ایک پیسہ بھی نکل آتا تو میں تجھے قتل کر دیتا کہ میں نے مہمان نوازی میں کسر نہیں رکھی تو نے کیوں جھوٹ بولا۔تو جو شخص اپنے پاس کچھ رکھ کر خدا تعالیٰ سے کہتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں وہ غضب