زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 179
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 179 جلد اول جو جنگ پر گئے تھے پوچھا کیا اب بھی بہادری ظاہر کرنے کا موقع ہوتا ہے؟ اس نے کہا وہاں تو یہی خیال ہوتا ہے کہ اگر ذرا پیچھے ہے تو اپنے توپ خانہ والے مار ڈالیں گے اس لئے اگر دشمن سے لڑتے ہوئے مریں گے تو پنشن تو ہو جائے گی جس سے بال بچوں کا گزارہ چل سکے گا اس لئے یہی بہتر ہے کہ دشمن کا مقابلہ کرتے رہیں اور جو کچھ ہوا سے برداشت کریں۔اس وقت دلیری یا بزدلی کا سوال ہی نہیں ہوتا۔ان سپاہیوں کا اگلے دشمن سے بچ جانا تو آسان ہوتا ہے مگر پچھلے توپ خانہ سے بچنا ناممکن۔تو اس سختی کے ساتھ وہاں کام لیا جاتا ہے اور یہ لوگ پندرہ پندرہ ، بیس بیس روپے کے لئے کام کرتے ہیں۔مگر جو لوگ خدا کے لئے نکلے ہوں ان کو کس قدر مشکلات برداشت کرنی چاہئیں۔جب کوئی سپاہی پہرہ پر کھڑا ہو تو اس کو اتنی بھی اجازت نہیں ہوتی کہ کسی چیز سے ٹیک لگا لے۔پھر کئی کئی وقت فاقے کرنے پڑتے ہیں۔ابھی ایک جہاز ڈوب گیا ہے اس سے جو لوگ بچے انہیں میں دن تک فاقہ سے رہنا پڑا۔اس سے معلوم ہوا کہ اس قدر فاقہ برداشت کرنے کی انسان میں طاقت ہے اور جب مجبوری میں اتنا فاقہ کیا جا سکتا ہے تو خدا کے لئے کیوں نہیں کیا جاسکتا۔پس تم لوگ ایسی فرمانبرداری سے کام کرو جیسے فوجی سپاہی کرتے ہیں بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ایسی فرمانبرداری دکھاؤ جیسی صحابہ دکھاتے تھے کیونکہ فوجی سپاہی توپ خانے کے ڈر سے کام کرتے ہیں مگر صحابہ کو تو اس کا ڈر نہیں ہوتا تھا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صحابی جن کا نام ضرار تھا جب دشمن کے مقابلہ میں نکلے تو بھاگے بھاگے واپس آگئے۔جس کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلے تھے اس نے ہیں مسلمان مار دیئے تھے۔سمجھا گیا کہ اس کے ڈر سے واپس بھاگ آئے ہیں۔لیکن جب پھر گئے اور واپس آنے کی وجہ پوچھی گئی تو کہا میں بغیر زرہ کے لڑا کرتا ہوں مگر آج زرہ پہنی ہوئی ہے۔جب میں مقابلہ پر گیا تو مجھے اس قدر صدمہ ہوا کہ اگر اس حالت میں میں مارا گیا تو سخت گرفت میں آؤں گا کہ آج کا فر سے ڈر کر میں نے زرہ پہن لی۔اس لئے میں دوڑتا ہوا گیا اور اب اتار کر آیا ہوں۔اور دشمن کو