زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 135
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 135 جلد اول رکھتے ہیں تم سب لوگوں سے ہماری اطاعت کا اقرار لو۔جب اس کے قتل کی تاریخ دیکھی گئی تو وہی رات تھی جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خدا کو قتل کر دیا۔1 ایران کے مقابلہ میں عرب کچھ بھی نہ تھا اس میں شبہ نہیں کہ اگر وہ بادشاہ زندہ رہتا تو حل الله آنحضرت مہ کے ساتھیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔مگر خدا تعالیٰ کا مقابلہ تھا جس کے مقابلہ میں وہ بادشاہ ایک مچھر یا پٹو کے برابر بھی نہ تھا لہذاوہ ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا۔جن کے ساتھ نصرت ہوتی ہے کوئی نہیں جو ان کا مقابلہ کر سکے۔جو صداقت پر یقین رکھتے ہیں خدا تعالیٰ ان کے لئے اپنے کرشمہ دکھلاتا ہے اور ہر میدان میں ان کی نصرت کرتا ہے۔وہ کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے۔بہت ہیں جو ایمان کا دعوی کرتے ہیں مگر وقت پڑنے پر بزدلی دکھا جاتے ہیں۔یاد رکھو ایمان اور بزدلی کبھی جمع نہیں ہو سکتی۔جس طرح دن اور رات جمع نہیں ہو سکتے۔دن اور رات تو صبح یا شام کے وقت مل جاتے ہیں مگر ایمان اور بزدلی اس طرح بھی نہیں مل سکتے۔مومن بزدل نہیں ہوتا۔مومن کسی میدان سے نہیں ڈرتا۔اگر مارا جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ یہی تو ہوتا ہے کہ ادنیٰ حالت سے اعلیٰ کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ضرار بن از ور ایک بہادر جرنیل تھے۔خالد کے بعد ان کا درجہ ہے۔ان کا نام اتنا مشہور نہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اکثر خالد کی سپہ سالاری میں تلوار چلایا کرتے تھے۔لیکن بہت جرار تھے اور خالد ان کو اپنا دایاں بازو سمجھا کرتے تھے۔ایک عیسائی جرنیل سے مقابلہ ہو رہا تھا اس نے بہت سے مسلمانوں کو شہید کیا تھا ( اس زمانہ میں پہلے ایک ایک کی لڑائی ہوتی تھی پھر فوج کی ) جب آپ اس کے مقابلہ میں گئے تو فوراً بھاگ کر خیمہ میں چلے گئے۔عیسائیوں نے تالیاں بجانا اور نعرے لگانا شروع کیا کہ اتنا بڑا جرنیل بھاگ گیا۔مسلمانوں میں ماتم پڑ گیا اور صحابہ گھبرا رہے تھے کہ کیا ہو گیا۔ایک صحابی ضرار کے پیچھے گئے خیمہ میں چونکہ عورتیں تھیں اس لئے وہ صحابی باہر کھڑے رہے۔ضرار باہر نکلے تو