زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 136

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 136 جلد اول ان کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی۔صحابی نے کہا ضرار ! آج کیا ہوا تھا تم نے اسلام کی بہت ہتک کرائی ہے۔ضرار نے جواب دیا عام طور پر میں ننگے بدن لڑا کرتا ہوں لیکن آج اتفاقاً میں نے دو زرہ پہنی ہوئی تھیں۔میں جو میدان میں گیا تو دل نے کہا اے ضرار ! کیا تو نے اس کا فر کو بہا در دیکھ کر دوز رہیں پہنی ہیں؟ کیا تو خدا کی ملاقات سے ڈرتا ہے؟ اس لئے میں بھاگتا ہوا آیا اور زرہ اتار کر اب لڑنے جارہا ہوں۔- دیکھو ان لوگوں میں اتنی خشیت تھی حالانکہ جان کر نہیں پہنا تھا مگر پھر بھی اتنی احتیاط تھی۔ان لوگوں میں ایسے ایسے کمزور بھی ہوتے تھے کہ یوں دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔آنحضرت ﷺ کے کاتب وحی بہت دبلے آدمی تھے۔اگر کوئی ہاتھ پکڑ لے تو کچھ نہیں کر سکتے تھے۔مگر بہادر ایسے کہ صفوں کی صفیں الٹ دیتے تھے اور دشمنوں کو تہ تیغ کر دیتے تھے۔دل کے لحاظ سے جو طاقت ہوتی ہے وہ اصل طاقت ہوتی ہے۔مومن اگر مر گیا تو بھی خدا تعالیٰ کا انعام پا گیا اور اس کی رحمت کا وارث ہو گیا اور اگر جیتا رہا تو کامیاب بھی ہوا اور خدا کا انعام بھی حاصل کر لیا۔منافق لوگ مومنوں کی موت کی خواہش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم احدی الْحُسْنَيَنِ 2 کی امید کرتے ہو۔کامیاب ہوئے تب بھی حسنی اور مارے گئے تب بھی حسنی۔نیکی ہی نیکی ہے۔تیسری کوئی چیز مومن کے لئے نہیں ہوتی۔یا کامیابی یا موت۔آپ لوگ جو تبلیغ کو جارہے ہیں تو یاد رکھیں کہ دشمن زیادہ ہیں۔تعداد کے لحاظ سے ان کے سو کے مقابلہ میں ہمارا ایک آدمی آتا ہے۔وہ سختی کریں گے کیونکہ تم ان کے گھروں میں جا رہے ہو۔اور بار بار کہیں گے کہ ہم تمہاری بات نہیں سنتے اور نہ یہ بات ہم پر اثر کرتی ہے۔مگر یا درکھو کہ مومن ایسی باتوں سے ڈر نہیں جاتا۔اگر بے دین اور گمراہ لوگوں کے ایسے قول کچھ حیثیت رکھتے تو رسول کریم سے جس دن مبعوث ہوئے تھے اسی دن سے تبلیغ چھوڑ دیتے اور گھر میں بیٹھ رہتے۔کیونکہ کفار نے بڑے زور سے کہہ دیا تھا کہ ہم تیری باتیں سننے کے لئے ہرگز تیار نہیں۔لیکن چونکہ آنحضرت ﷺ نے ایسا نہیں کیا اور باوجود ان کے انکار پر اصرار