زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 134
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 134 جلد اول ا صلى الله اصل بات یہ ہے کہ خدا کے فضل سے کام ہوتے ہیں خدا تعالیٰ کی مدد ہو تو کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔جب کام خدا کی رضا کے لئے ہو تو خدا تعالیٰ نصرت کرتا ہے اور باوجود دشمن کے طاقتور ہونے کے انسان غالب آجاتا ہے۔رسول کریم مہ جب مدینہ تشریف لے گئے اور ابھی آپ کے پاس حکومت نہ تھی جو کہ بعد میں ایک رنگ کی حکومت تھی اس وقت کسری کے پاس آپ کی شکایت کی گئی کہ یہ شخص ایران کو تباہ کر دے گا۔وہ بادشاہ ظالمانہ خیال کا تھا اس نے فورآئین کے گورنر کے نام حکم لکھا کہ پیشتر اس کے کہ یہ شخص ترقی کرے اور ہمیں تکلیف ہو اس کو میرے حضور حاضر کر دو۔گورنر نے چند سپاہی مدینہ کو روانہ کئے اور ان سے نبی کریم ﷺ کے پکڑ لانے کے لئے کہہ دیا۔وہ لوگ آئے اور آ کے دیکھا کہ نہ وہاں کوئی بادشاہ ہے اور نہ بادشاہت کے نشان بلکہ یہ شخص تو ہر وقت خدا پرستی میں لگا ہوا ہے۔انہوں نے اپنے بادشاہ کا پیغام پہنچا دیا۔آپ نے فرمایا کہ کل جواب دوں گا۔وہ چلے گئے دوسرے دن آئے اور کہا کہ کیا جواب ہے؟ آپ نے فرمایا تم کس کے پاس مجھے لے جانا چاہتے ہو چلے جاؤ ! میرے خدا نے تمہارے خدا کو آج رات قتل کر دیا ہے۔انہوں نے کہا ہم آپ کو بطور نصیحت کہتے ہیں کہ ایسا نہ کریں ورنہ تمام عرب کی شامت آ جائے گی اور یہ اچھا نہ ہو گا، آپ چلے چلیں۔آپ نے فرمایا نہیں بس میرا یہی جواب ہے تم جاؤ اور یہ پیغام پہنچا دو۔وہ واپس گئے گورنر کو اطلاع دی کہ اس نے یوں جواب دیا ہے۔گورنر نے کہا کہ یہ بات تو کامل وثوق سے کہی گئی ہے اگر ایسا ہی ثابت ہوا تو میں اس کے پر ایمان لے آؤں گا۔اور اگر نہیں تو میں ڈرتا ہوں کہ کیا انجام ہو۔انتظار کرو کیا ہوتا ہے۔تھوڑی مدت گزری تھی کہ ایک جہاز ایران سے آیا ( درمیانی علاقہ چونکہ ایران کے ماتحت نہ تھا اس لئے ان کے یمن سے تعلقات بذریعہ جہاز تھے ) اور گورنر کے نام ایک خط لایا۔اس نے مہر دیکھی تو اور ہی تھی۔کھولا تو اس کے اندر لکھا تھا کہ میرے باپ نے عرب کے ایک شخص کی نسبت ظالمانہ حکم دیا کہ اس کو گرفتار کر لو۔اور اسی طرح اس کی اور ظالمانہ کارروائیوں کی وجہ سے ہم نے اس کو قتل کر دیا ہے اب ہم بادشاہ ہیں تم کو بحال