زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 119

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 119 جلد اول وہ اسلامی اخلاق کا محاورہ ہے۔جب کسی بدی کا ذکر کریں تو کہیں یہ غیر اسلامی خلق ہے۔اور جب نیکی کا ذکر کریں تو کہیں یہ اسلامی شعار اور خلق ہے۔اور مثلاً کسی قوم کی تباہی کا ذکر کریں تو کہیں کہ اگر وہ اسلامی اخلاق کی پابندی کرتی تو کیوں تباہ ہوتی۔اس نکتہ کو یاد رکھیں فوائد عظیمہ حاصل ہوں گے انشاء اللہ۔جو لوگ اس نصیحت پر عمل کریں گے اگلی نسلیں ان کے احسان کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں گی اور ان کے لئے دعا کریں گی۔انشاء اللہ۔دعا کی تاکید دعاؤں پر زور دیں اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیں۔یہ چیز دل کے لئے عجیب تسکین وہ ہے۔دل دعا سے مضبوط ہوتا ہے اور ایمان سیراب ہوتا ہے۔ایمان کا پہلا ثمرہ دعا ہے اور دعا کا پہلا ثمرہ ایمان ہے۔جس طرح ہر بیج درخت سے پیدا ہوتا ہے اور ہر درخت بیج سے پیدا ہوتا ہے اسی طرح دعا ایمان سے پیدا ہوتی ہے اور ایمان دعا سے پیدا ہوتا ہے اور پھر نہیں کہہ سکتے کہ کون کس سے پیدا ہوا۔کالے گورے سب برابر ہیں ہمارے لئے سب قومیں برابر ہیں۔پس حبشیوں اور سفید رنگ والوں کو یکساں سمجھیں مگر لوگوں کے احساسات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔جس طرح جسم کو تکلیف دینی منع ہے دل کو تکلیف دینی بھی منع ہے۔پس جب تک اسلام یا ایمان یا اخلاق یا جماعت کے فوائد کو نقصان نہ پہنچتا ہو لوگوں کے احساسات کا خیال رکھیں مگر چاہئے کہ نو مسلموں میں سے قومی منافرت کے دور کرنے کی کوشش کریں۔مبلغ کی سیاست سے علیحدگی مبلغ کے لئے سیاست سے الگ رہنا ضروری ہے پس اس مسئلہ کے متعلق خواہ دل میں کس قدر ہی جوش کیوں نہ پیدا ہو خاموش رہیں۔اور صرف اخلاقی پہلو پر زور دیں اور ہر فریق کو زیادتی سے روکیں اور اس کے بعد اپنے کام کو ختم سمجھیں۔جس طرح یہ سچ ہے کہ قیصر کا حق قیصر کو دو اور خدا کا حق خدا کو دو۔1 اسی طرح یہ بھی حق ہے کہ زید کا کام زید کے سپر د کرو اور اپنا کام خود کرو۔جو ڈاکٹر ایک فریق کو سانس دلاتے ہوئے اپنے کام کو چھوڑ کر ایک