زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 118
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 118 جلد اول اس طرح تفقہ حاصل کریں تو کوئی امتیاز ان کو اس روحانیت سے نہیں روک سکتا جو اس وقت ان کو حاصل ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بسر کر کے ان سے علم دین کو حاصل کیا اور اس پر بصدا خلاص عامل ہوئے۔یا درکھیں کہ کوئی قوم بحیثیت قوم جمع نہیں رہ سکتی جب تک کہ اس کو جمع عاشقانه ایمان کرنے والی رسی مضبوط نہ ہو۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بہی خواہی اور دنیا کی خاطر تکالیف کے اٹھانے کے واقعات بتا بتا کر ان لوگوں کے دل میں آپ کی اور سلسلہ کی محبت کو ایسا مضبوط کریں کہ فلسفی ایمان سے نکل کر وہ عاشقانہ ایمان پر قائم ہو جائیں کہ اس ایمان کے بغیر نجات نہیں۔نو مسلموں کو تعلیم دینے کا طریق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ قرآن کریم اور حدیث کے ساتھ جاری رکھیں اور کبھی کبھی آپ کی کتب سے خاص احمدیوں کے جلسوں میں لیکچر دیا کریں تا کہ ان کو ان سے دلچسپی پیدا ہو۔اسی طرح میرے خطبوں میں چونکہ واقعات حاضرہ کو مد نظر رکھا جاتا ہے ان سے بھی مضامین لوگوں کو سناتے رہا کریں۔قربانیاں کرنے کی تعلیم یہ یاد رکھیں کہ جس طرح بعض لوگ قربانیوں سے بھاگ جاتے ہیں بعض لوگ قربانیوں سے مضبوط ہو جاتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کو خدا پسند بھی کرتا ہے پس لوگوں کو ہمیشہ سلسلہ کے لئے قربانیاں کرنے کی تعلیم دیتے رہا کریں اور تحریک جاری رکھا کریں۔اس سے آہستہ آہستہ لوگ مضبوط ہو جائیں گے۔اخلاقی اصلاح کے لئے ایک نکتہ میں نے اخلاق پر پہلے زور دیا ہے اس کے متعلق ایک بات کو یاد رکھیں کہ ایک محاورہ کثرت سے استعمال کریں اور نا معلوم طور پر نو مسلموں میں اس کے استعمال کو رائج کریں۔اس سے عظیم الشان فوائد حاصل ہوں گے اور دنیا ایک عجیب پلٹا کھائے گی۔اور ان