زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 120

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 120 جلد اول مزدور کے سر پر گھانس رکھوانے کے لئے چلا جاتا ہے اس سے زیادہ احمق کوئی نہیں۔بے شک وہ ایک اچھے کام کے لئے گیا اور دوسرے کی مدد کے لئے گیا مگر اس وقت کیا جب اس سے اہم اور اس سے مقدم فائدہ پہنچانے میں وہ مشغول تھا پس اس نے اپنی زندگی کو دنیا کے فائدے کے لئے نہیں بلکہ نقصان کے لئے خرچ کیا۔مبلغ کا استقلال چاہئے کہ قرآن کریم پر تدبر کرتے رہیں اور یورپ کے خیالات کی رو میں بہنے سے بچیں۔انسان بہت دفعہ غیر معلوم طور پر اثر قبول کرتا ہے اور یہی خطرناک ہوتا ہے۔مبلغ کو ایک چٹان ہونا چاہئے جس پر لوگ آ کر نجات حاصل کریں نہ ایک گھانس کا گٹھا جو نہ دوسروں کو پناہ دے اور نہ خود اس کا کوئی مقام ہو۔چاہئے کہ اپنے ایمان کو خدا کے نور سے مضبوط کرتا رہے اور اس کا طریق یہ ہے کہ وہ ہر ایک امر کو منفردانہ طور پر نہ دیکھے بلکہ اس طرح دیکھے کہ کیا یہ اسلامی روح کے مطابق ہے۔اس طرح غور کرنے سے اسے کئی باتیں جو چھوٹی نظر آتی تھیں بڑی نظر آنے لگیں گی اور وہ ٹھوکر سے بچ جائے گا۔اور پھر بھی جو بات سمجھ میں نہ آوے اس کے متعلق مرکز سے دریافت کرنا چاہئے کیونکہ اس بات کا صحیح اندازہ مرکز سے ہی لگ سکتا ہے کہ حقیقت اور روح کیا ہے۔عورتوں سے مصافحہ کرنا عورتوں سے مصافحہ کرنے کی رسم کو اب چھوڑ نا چاہئے اور خود عورتوں کے اندر یہ احساس پیدا کرنا چاہئے کہ وہ اس سے بچیں۔جب عورتوں کی ایک جماعت ایسی تیار ہو جائے گی تو وہ خود دوسروں کو سنبھال لے گی۔یاد رکھیں کہ عورتوں کے اندر ایمان کی ایک خاص مناسبت ہے۔ایک دو مخلص عورتوں کو خوب سمجھا کر وہ باتیں جو عورتوں سے متعلق ہیں ان کے دلوں میں خوب رچا دیں پھر دیکھیں کہ وہ کس طرح سیف مسلول بن کر دوسری عورتوں کو اپنا ہم خیال بنا لیتی ہیں۔یہ کام بغیر عورتوں کی مدد کے نہ ہوگا۔اور اگر عورتوں کی غیرت کو بھڑکا دیا جائے اور ان کو بتایا جائے کہ بعض وہم اسلام کے راستہ میں کس قدر روک ہیں (اور یہ کام صرف