زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 98
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 98 جلد اول تھے اور جو دوسروں سے پڑھے ہوئے تھے وہ بھول گئے تھے۔میں نہیں سمجھتا تھا اس کی کیا وجہ ہے مگر یہ معلوم ہے کہ قاضی صاحب کو جوش اور خواہش ہوتی تھی کہ طلباء کو جو کچھ پڑھائیں وہ یاد کرا دیں۔اس کا یہ اثر ہوتا تھا کہ ان کا پڑھایا ہوا یا درہتا تھا۔ہر ایک آدمی کے بولنے کا طریق الگ ہوتا ہے بعض اپنی تقریر کو بہت سجا کر اور فصاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور بعض سادہ طریق سے سادہ الفاظ میں۔قاضی صاحب بھی بہت سادہ طور پر بولتے ہیں اور ان کے جو شاگرد ہیں وہ اس بات کو جانتے ہیں مگر میں نے یہ بات محسوس کی ہے اور دوسرے لوگ جن سے میں نے پوچھا ہے انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ قاضی صاحب کا پڑھایا ہوا سبق خوب یا درہتا ہے۔یہ میرے اپنے تجربہ کی بات ہے اس لئے میں نے بیان کی ہے اور اس لئے بھی کہ دوسرے استاد جو اس وقت یہاں موجود ہیں اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔بعض اساتذہ ایسے ہوتے ہیں جن کا مقصد کورس پورا کر ا دینا ہوتا ہے یہ خواہش نہیں ہوتی کہ طلباء کے قلب پر تعلیم کا اثر چھوڑیں۔اس لئے خواہ وہ کتنے ہی زور اور محنت سے پڑھائیں اور کیسی عمدہ تقریریں کریں طلباء کے دل پر ایسا اثر نہیں ہوتا جیسا ہونا چاہئے۔قاضی صاحب اب چونکہ سکول سے الگ ہونے والے ہیں اس لئے ایک اور بات کے بیان کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں اور وہ یہ کہ مجھے یاد ہے طالب علموں سے قاضی صاحب کا رویہ سخت سمجھا جاتا تھا۔یعنی طلباء سمجھتے تھے کہ قاضی صاحب پڑھائی میں سختی کرتے ہیں مگر باوجود اس کے لڑکوں کو ان سے محبت تھی اور یہ ثبوت تھا اس بات کا کہ طالب علم سمجھتے تھے کہ قاضی صاحب کی سختی کسی بغض کی وجہ سے نہیں ہوتی تھی بلکہ خیر خواہی کی وجہ سے ہوتی تھی۔یہ بات بھی جو قاضی صاحب کو حاصل تھی بہت کم استادوں کو حاصل ہوتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ لڑ کے قاضی صاحب کی سختی کو اپنی مجلسوں میں یاد کر کے ہنسا کرتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔یہ وہ اثرات ہیں جو اُس وقت جب میں پڑھا کرتا تھا مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر