زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 97
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 97 جلد اول حضرت قاضی امیر حسین صاحب کا مدرسہ احمدیہ سے تبادلہ حضرت قاضی امیر حسین صاحب کے مدرسہ احمدیہ سے تبادلہ پر 20 جون 1921ء کو طلباء مدرسہ احمدیہ نے ان کی الوداعی دعوت کی جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی بھی از راہ شفقت شامل ہوئے۔اس موقع پر آپ نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو خطاب فرمایا وہ درج ذیل ہے:۔’ولایت میں قاعدہ ہے کہ کسی جدا ہونے والے کو الوداع کہتے ہوئے اس سے تعلق رکھنے والے پرانے واقعات کو بیان کرتے ہیں۔اس وقت میں بھی قاضی صاحب کے متعلق چند باتیں بتا تا ہوں۔میں نے ان سے مدرسہ احمدیہ میں تو نہیں البتہ ہائی سکول میں تعلیم پائی ہے اُس زمانہ کے متعلق میں ایک بات بتاتا ہوں جو میرے تجربہ میں آئی اور جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ دوسروں کے لئے مفید ہوسکتی ہے۔شروع شروع میں جب مدرسہ بنا تو یہ عمارتیں وغیرہ کچھ نہ تھیں بازار کے قریب کے چار پانچ کمرے تھے لڑکے ٹاٹ پر بیٹھا کرتے تھے۔اب تو کہا جاتا ہے کہ زمین پر بیٹھنے سے لڑکوں کی صحت خراب ہو جاتی ہے۔بیچ اور ڈلیک چاہئیں مگر اُس وقت ٹاٹ ہی بینچ اور ڈلیک ہوتے تھے۔میں پانچویں یا چھٹی جماعت میں تھا۔اُس وقت کی یہ بات مجھے خوب یاد ہے اور اب تک اس کا اثر میرے قلب پر پڑتا ہے۔اس زمانہ میں تعلیم کی طرف مجھے رغبت نہ تھی اور پھر عموماً میں بیمار بھی رہتا تھا اس لئے نافھے ہو جاتے تھے۔ایک دفعہ جب میں ناغہ کے بعد پچھلے سبق دیکھنے لگا۔جو سبق قاضی صاحب سے پڑھے ہوئے تھے وہ تو یاد