زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 99

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 99 جلد اول ہوا کرتے تھے اور اس وقت میں نے ان کو اس لئے دہرایا ہے کہ یہاں استاد بھی بیٹھے ہیں جو فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔استادوں کو اپنے شاگردوں سے ایسا سلوک کرنا چاہئے کہ جس سے ان کے دل میں محبت پیدا ہو۔یہ نہ ہو کہ نفرت کرنے لگ جائیں اور نہ یہ ہو کہ خراب ہی ہو جائیں۔اس وقت بھی شکائیتیں آتی تھیں اور اب بھی آتی ہیں۔اور چھوٹی چھوٹی باتوں کے متعلق آتی ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ استاد طلباء کے دل میں محبت پیدا نہیں کرتے۔اگر ایسا کر لیں تو طلباء ان کی سختی کو بھی خوشی سے برداشت کر لیں۔اسی طرح وہ اثر جو پڑھاتے وقت ہوتا ہے اسی طریق سے ہو سکتا ہے کہ استاد کی خواہش ہو کہ طلباء کو میں یہ سکھا دوں نہ یہ کہ اپنا وقت پورا کر کے چلا جاؤں۔میں کبھی کبھی چھوٹی عمر کے پڑھے ہوئے سبق پڑھا کرتا ہوں۔مجھے قاضی صاحب کے پڑھائے ہوئے اسباق کے الفاظ تک یاد ہیں۔اسی طرح ایک اور استاد کی بات مجھے یاد ہے انہوں نے مجھے ایک موقع پر نصیحت کی تھی۔میں ایک لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کھڑا تھا انہوں نے علیحدہ لے جا کر کہا کہ ایسی بے تکلفی اچھی نہیں ہوتی۔اُس وقت ہم جس جگہ کھڑے تھے وہ جگہ، وہ حالت کہ ہم نقشہ دیکھ رہے تھے ، جس طرف منہ تھا ، جس طرح مخاطب کیا گیا یہ سب باتیں مجھے یاد ہیں۔اسی طرح اور کئی باتیں اس وقت کی ایسی ہیں جو ہو بہو یاد ہیں۔اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ ایسے ذرائع ہوتے ہیں جن سے اگر کام لیا جائے تو باتیں یاد رہتی ہیں اور یاد کرانے کا یہی طریق نہیں ہے کہ بار بار پڑھائی جائیں۔تاریخ کے متعلق ہی میں نے دیکھا ہے کہ میں آنکھوں کی تکلیف کی وجہ سے خود نہیں پڑھ سکتا تھا ماسٹر عبدالرحمن صاحب مجھے سناتے جاتے تھے اور میں سنتا تھا۔اس بات کو سترہ سال کے قریب ہو گئے ہیں مگر اُس وقت کے مجھے فقرے کے فقرے ابھی تک یاد ہیں۔یہ باتیں اس نتیجہ پر پہنچاتی ہیں کہ استاد اگر توجہ اور کوشش سے کام لے تو طلباء کے بہت زیادہ اوقات کو بچا سکتا ہے اور تھوڑے وقت میں بہت کچھ سکھا سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ طلباء کی زندگی آئینہ کی طرح ہوتی ہے جو نقش چاہیں