حضرت زینب ؓ بن جحش

by Other Authors

Page 15 of 39

حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 15

حضرت زینب 15 کعبہ کی حفاظت اور صفائی ستھرائی کے کاموں کا ذمہ بھی متولی خاندان کا ہوتا تھا ( اور خانہ کعبہ کا متولی ہونا بڑا فخر کا باعث سمجھا جاتا تھا) جب تک حضرت اسماعیل علیہ السلام زندہ رہے وہ خود کعبہ کے متولی تھے اور پھر ان کے بعد ان کے بیٹے متوتی ہوئے اور پھر مختلف خاندانوں سے ہوتے ہوتے ایک لمبے عرصے کے بعد دوبارہ خانہ کعبہ کی تولیت قصی بن کلاب کے پاس آگئی جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے تھے اور یہ قصی بن کلاب ہمارے پیارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا کے دادا تھے۔خانہ کعبہ کی اس تو لیت کی وجہ سے ہی قریش عزت والا قبیلہ مانا جاتا تھا۔حضرت زید ایک آزاد کردہ غلام تھے اس لئے حضرت زینب نے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔لَا أَرْضَاهُ لِنَفْسِي (3) کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرانفس اس بات پر راضی نہیں ہوتا۔لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس نکاح میں بہتری سمجھتے تھے اور حقیقت میں اس نکاح سے آقا و غلام کا فرق مٹا کر اسلامی برابری کی تعلیم کی شروعات کرنا چاہتے تھے۔حضرت زینب کو پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کا بہت احترام تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے رسول