حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 14
حضرت زینب 14 پیار اس قدر بڑھ گیا کہ جب حضرت زید کے والد اور چچا اُن کو واپس لینے کے لئے آئے تو انہوں نے اپنے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم سے الگ ہونا گوارہ نہ کیا اور اپنے والد اور چچا کے ساتھ جانے سے صاف انکار کر دیا۔پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید کی اس محبت سے اس قدرخوش ہوئے کہ اس وقت کے دستور کے مطابق آپ ﷺ نے حضرت زیڈ کو کھوٹی ، یعنی منہ بولا بیٹا بنا لیا۔یہ وہی زید بن حارثہ تھے جن کے ساتھ نکاح کا پیغام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی زاد حضرت زینب بنت جحش کو دیا تھا۔لیکن حضرت زینب کو بعض وجوہات سے یہ رشتہ پسند نہیں تھا کیونکہ بہر حال آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے تھیں اور دینی و دنیاوی لحاظ سے بھی آپ کے خاندان کو اعلیٰ مقام حاصل تھا کیونکہ حضرت زینب ایک بزرگ اور باعزت بنو ہاشم کے خاندان سے تھیں جن کو خانہ کعبہ کی تولیت بھی حاصل تھی۔خانہ کعبہ کی تولیت کا مطلب یہ ہے کہ خانہ کعبہ کے نظام کی ساری ذمہ داری جو خاندان سنبھالتا ہے اس کو متوتی کہا جاتا تھا۔خاص طور پر حج کے دنوں میں حاجیوں کو پانی پلانا ، ان کو کھانا کھلانا اور اس کے علاوہ خانہ