ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 93
۲۔نواب ابوالخیر نور الحسن خاں صاحب نزولِ مسیح “ کے عقیدہ کو اُمت کا مسلمہ عقیدہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:۔نزول مسیح علیہ السلام میں تو بال برابر کا بھی فرق نہیں ہے۔عیسائی بھی ان کے آنے کے قائل ہیں منتظر۔۔۔۔ابن مریم تو سب کے نزدیک ضرور ہی آئیں گے۔اقتراب الساعۃ صفحہ ۱۴۸،۱۴۷، مطبوعه ۰۱ ۱۳ ہجری) ۳۔سید سلیمان ندوی صاحب لکھتے ہیں :۔” مجھے جہاں تک علم ہے نزول مسیح کا انکار کسی نے نہیں کیا۔معتزلہ کی کتابیں نہیں ملتیں جو حال معلوم ہو۔البتہ ابن حزم وفات کے قائل تھے ساتھ ہی نزول کے بھی“۔( اقبال نامہ یعنی مجموعہ مکاتیب اقبال حصہ اول صفحہ ۱۹۶ حاشیہ مطبوعہ لاہور ) ۴۔جناب سیدابوالاعلیٰ مودودی صاحب خود بھی لکھ چکے ہیں : د مسیح علیہ السلام کا نزول ثانی مسلمانوں کے درمیان ایک متفق علیہ مسئلہ ہے اور اس کی بنیاد قرآن وحدیث و اجماع امت پر ہے۔۔۔۔۔حدیث سے یہ قطعی طور پر ثابت ہے اسی طرح مفسرین، محدثین کا بھی اجماع ہے کہ مسیح کی آمد ثانی کی خبر صحیح ہے“۔( قادیانی مسئلہ اور اس کے سیاسی ، دینی ، تمدنی پہلو، صفحہ ۳۶،۳۳ مطبوعہ ۱۹۶۳ ءلاہور ) ۵۔جناب عباد الله اختر صاحب مشاہیر اسلام میں لکھتے ہیں :۔دد بعض علماء اسلام نے ان احادیث کو ضعیف به لحاظ روایت اور موضوع بہ لحاظ درایت قرار دے کر مسیح و مہدی کی آمد ثانی کا انکار کر دیا۔۔۔۔۔۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اکثریت کا عقیدہ دوبارہ آمد ثانی بدستور ہے۔مسیحی دنیا کو تو مسیح کی آمد ثانی کا انتظار ہے اور رہے گا۔۔۔۔۔اور اس میں تو کلام نہیں کہ مسلمان بھی مسیح و مہدی