ظہورِ امام مہدی ؑ

by Other Authors

Page 37 of 97

ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 37

ہے: مَوْلِدُهُ لَيْلَةَ النَّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ سَنَةً خَمْسِينَ وَ مِئَتَيْنِ بَعْدَ الْأَلْفِ نور الابصار في مناقب آل بيت النبي المختار للشيخ الشبكنجي) کہ امام مہدی علیہ السلام کی پیدائش ۲۵۰ ہجری میں ہوگی۔۱۵۔حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی المتوفی ۲۳۹ ہجری اپنی کتاب تحفہ اثنا عشریه کے باب ہفتم در امامت میں فرماتے ہیں کہ اہل سنت مہدی کے ظہور کو ہزار برس سے قبل ہرگز نہیں مانتے کیونکہ ان کے نزدیک ظہور آیات قیامت بارہ سو برس ہجری گزرنے کے بعد ہوگا۔۱۲۔امام مہدی کے نشان چاند اور سورج گرہن کے متعلق ضلع ملتان کے ایک بزرگ عالم حضرت شیخ عبدالعزیز پہاروی کا مشہور شعر ہے۔درسن غاشی دو قرآن خواهد بود ازی مهدی و دقبال دو نشان خواهد بود کہ ”غاشی" کے عدد یعنی اس! ہجری میں یہ دو گرہن ہوں گے جو مہدی اور دجال کے ظہور کا نشان ہوں گے۔( حلفیہ بیان احمد خان صاحب خاکوانی افغان پسر عبد الخالق خان خاکوانی ملتانی )۔( بدر ۱۴ / مارچ ۱۹۰۷ نیز دیکھیں حقیقت الوحی ) ۱۷۔حضرت شیخ محی الدین ابن عربی المتوفی ۲۸ ہجری نے فرمایا: وَ يَكُونُ ظُهُورُهُ بَعْدَ مَضِي خ ف ج بَعْدَ الهِجْرَةِ “ مقدمه ابن خلدون صفحه ۳۵۴ تر جمه از مولا ناسعد حسن خان صاحب یوسفی فاضل الہیات اصبح المطابع ، کراچی) ۴۳۷