ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 38
یعنی امام مہدی کا ظہور ہجرت کے بعد خ ف ج کے گزرنے پر ہوگا۔ہجرت کے حروف ( ھ + + +ت) = ( ۲۰۰۳۵ + ۴۰۰) کی مقدار ۶۰۸ اور خ + + ج = ۶۰۰ + ۸۰ +۳) کی مقدار ۶۸۳ بنتی ہے۔گو یا مہدی کا ظہور + ۶۸۳ = ۲۹۱۶۰۸ ہجری میں ہوگا۔۱۸۔حضرت شیخ عبد القادر جیلانی المتوفی ۵۷۱ ہجری کا ایک اہم کشف ہے: ایک دن عالم جن و انس کی پیشوائی میں حضرت سید عبد القادر جیلانی کسی جنگل میں مراقبہ فرمائے بیٹھے تھے۔نا گہاں آسمان پر ایک عظیم نور ظاہر ہوا، جس سے تمام عالم نورانی ہو گیا۔یہ نور ساعةً فساعةً بڑھتا اور روشن ہوتا گیا، اس سے اُمت مرحومہ کے اوّلین و آخرین اولیاء نے روشنی حاصل کی۔حضرت نے تامل فرمایا کہ اس مثال میں کسی صاحب کمال وجود باجود کا مشاہدہ کرایا گیا۔القاء ہوا کہ اس نور کا صاحب تمام امتوں کے اولیاء اولین و آخرین سے افضل تر ہے۔پانچ سوسال بعد ظہور فرما ہو کر ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی تجدید کرے گا۔جو اُس کی صحبت سے فیضیاب ہوگا وہ سعادت مند ہوگا۔اس کے فرزند اور خلیفہ بارگاہ احدیت کے صدر نشینوں میں سے ہیں۔“ ( حدیقه محمودیه ترجمه روضه قیومیه صفحه ۳۲) حدیقہ محمودیہ میں اس کشف کو حضرت مجد دالف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق قرار دیا گیا ہے۔مگر اس کشف میں پانچ سوسال کے بعد ظاہر ہونے والے مجد ددین کو تمام امتوں کے اولین و آخرین سے افضل قرار دیا گیا ہے۔یہ مقام ہمارے نزدیک خاتم الخلفاء حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ہی ہو سکتا ہے نہ کہ مجددالف ثانی کا۔۱۹۔صاحب بیج الکرامہ نے جملہ اندازوں کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کے چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہونے کا قومی احتمال بیان کیا ہے:۔