ظہورِ امام مہدی ؑ

by Other Authors

Page 36 of 97

ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 36

تو ظہور بالکل یقینی ہے۔کیونکہ متعدد بزرگوں کی پیشگوئیوں کو ملایا جائے تو ۴۰ ہجری تک سب کا اتفاق ہو جاتا ہے۔(کتاب مذکور آخری صفحہ ) ۱۰ گویند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی تاریخ ظہور او در لفظ چراغ دین یافته و بحساب جمل عدد وے ایک ہزار دوصد شصت و هشت می شود ( حج الکرامہ فی آثار القیامه صفحه ۳۹۴) کہ حضرت شاہ ولی اللہ نے امام مہدی علیہ السلام کی تاریخ ظہور لفظ چراغ دین میں بیان فرمائی ہے جو کہ حروف ابجد کے لحاظ سے ایک ہزار دوسواڑسٹھ (۲۶۸ ہجری ) ہوتے ہیں۔۱۱۔مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعت السنہ جلد ۶ نمبر ۳ صفحه ۶۱ پر ظہور عینی و مہدی کو چودھویں صدی میں تسلیم و بیان کیا ہے۔۱۲۔ابوالخیر نواب نورالحسن خان صاحب نے لکھا:۔ظہور مہدی علیہ السلام کا تیرھویں صدی پر ہونا چاہیے تھا مگر یہ صدی پوری ہو گئی تو مہدی نہ آئے۔اب چودھویں صدی ہمارے سر پر آتی ہے۔۔۔۔۔۔شاید اللہ تعالیٰ 66 اپنا فضل و عدل و رحم و کرم فرمائے۔چار چھ سال کے اندر مہدی ظاہر ہو جائیں۔“ (اقتراب الساعه صفحه ۲۲۱) ۱۳۔نواب صدیق حسن خان صاحب والٹی بھو پال نے بہت تحقیق سے تمام پیشگوئیوں علامات اور نشانات کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی کتاب میں لکھا ہے :۔بعض از مشائخ واہل علم گفته اند که خروج او بعد از دوازده صد سال از ہجرت شود ورنه از سیزده صد تجاوز نه کند ( حج الکرامه صفحه ۳۹۴) کہ بعض مشائخ اور اہل علم کے نزدیک امام مہدی کا ظہور بارہ سو سال ہجری کے بعد ہوگا لیکن تیرہ سو سال سے تجاوز نہیں کرے گا۔۱۴۔علامہ الشعرانی المتوفی ۷ ہجری نے اپنی کتاب ”الیواقیت والجواہر“ میں تحریر فرمایا