ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 27
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی پہلی تین صدیوں کو خیر القرون قرار دیا ہے۔یقیناً یہی وہ عرصہ ہے جس کے بعد دین آسمان کی طرف چڑھنا تھا پھر پورا ایک ہزار سال گزرنے پر از سر نو تدبیر امر ہونا مقدر تھی۔واقعاتی رنگ میں یہ حقیقت ہے کہ تیرہ صدیاں گزرنے پر وہ وقت آگیا کہ ادیان عالم کے پیرو مصلح آخر الزمان کے منتظر ہوئے۔درحقیقت یہی وقت تھا اسلام کے غلبہ اور نشاۃ ثانیہ کا جس کے لئے حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوا۔۲۔معروف اسمعیلی عالم جناب ڈاکٹر زاہد علی حیدر آباد دکن کالج میں عربی کے پروفیسر اور وائس پرنسپل تھے۔انہوں نے سے ۱۳ ہجری ۱۹۵۴ء میں ایک کتاب ”ہمارے اسمعیلی مذہب کی حقیقت اور اُس کا نظام شائع کی۔اس میں متعدد حوالے شامل کر کے انہوں نے بتایا ہے کہ قَائِمُ الْقِيِّمَةِ (امام مہدی کا ظہور ساتویں ہزار کے آغاز پر ضروری ہے۔مثلاً لکھا ہے: "إِنَّ الْأَدْوَارَ سِتَّةُ أَوَّلُهَا دَوْرُ ادَمَ۔۔۔۔وَالثَّوْرُ السَّادِسُ دَوْرُ مُحَمَّدٍ۔۔۔وَالدَّوْرُ السَّابِعُ دَوْرُ الْقَائِمِ۔۔۔۔سَابِعُهُمُ الْمَهْدِيُّ الَّذِي يَخْتِمُ الدُّنْيَا وَتَنْفَتِحُ الْآخِرَةُ “ یعنی دور چھ ہیں۔پہلا دور آدم ہے۔چھٹا دور محمد اور ساتواں دور قائم ہے جو آدم سے ساتواں مہدی ہے جس سے ایک دنیا ختم اور آخرت کا افتتاح ہوگا۔(كتاب الْأَدِلَّةِ وَالشَّوَاهِد (جعفر بن حسین ) بحوالہ کتاب مذکور فصل نمبر 6) چھے ادوار کی تفصیل در اصل قرآن کریم سے لی گئی ہے۔چنانچہ لکھا ہے :- اصحاب تاویل گفته اند که این شش روز که در قرآن مے آید آسمان و زمین را دریں مدت آفریده اندیشش دور پیغمبر مرسل را مے خواہد۔ہر دورے روزے و ہر ۴۲۷