ظہورِ امام مہدی ؑ

by Other Authors

Page 28 of 97

ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 28

روزے ہزار سال انّ يَوْماً عِندَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مَمَّا تَعُدُّونَ۔( روضته التسلیم ( فارسی ) از خواجہ نصیر الدین طوسی متوفی ۷۲ ھ صفحہ ۱۳۳) که اصحاب تاویل کہتے ہیں چھ روز، جو قرآن کریم میں آئے ہیں کہ آسمان وزمین کو ان میں پیدا کیا گیا ہے۔پیغمبر و مرسلین کے چھ ادوار کو چاہتے ہیں۔ہر دور ایک دن کا اور ہر دن ایک ہزار سال کا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں آیا ہے، ایک دن ، تیرے رب کے نزدیک تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہے۔قرآن کریم سے ماخوذ اس تشریح کے مطابق ساتویں ہزار کا امام جو قائم القیمہ یا مہدی ہے، حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی صورت میں ظاہر ہوا۔(تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۵۴، لیکچر سیالکوٹ) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (سورة الفاتحه) اس آیت کی تفسیر میں علامہ امام السید محمود الالوی مفتی بغداد لکھتے ہیں: الْمُرَادُ بِالْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ الْيَهُودُ وَبِالضَّالِّينَ النَّصْرُى “۔(روح المعانی جلد اول صفحه ۸۲ یعنی مغضوب علیہم سے یہودی اور الضالین سے نصاری مراد ہیں ، یہی معنے امام احمد بن حنبل ، ابن حبان ، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کئے ہیں۔اور میرے علم کے مطابق مفسرین نے ان معنوں سے اختلاف نہیں کیا۔(ایضا ) ظاہر ہے کہ یہود اور نصاری کا امتیاز حضرت مسیح ابن مریم کی آمد سے ہوا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد تیرھویں صدی کے آخر میں آئے۔اس لئے ضروری تھا کہ امت محمدیہ کا مسیح بھی اسی طرح تیرھویں صدی کے آخر میں ظاہر ہوتا جبکہ مولانا حالی، ابوالخیر نواب ۴۲۸