یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 88 of 137

یادوں کے نقوش — Page 88

145 “ 146 نے خاکسار کو بعض ہدایات دیں کہ محترم حکیم صاحب کا جسد خا کی اسلام آباد سے ربوہ پہنچنے سے قبل ہی ان کی رہائش گاہ پر شامیانے اور کرسیاں وغیرہ لگوادیں تا کہ تعزیت کیلئے آنے والوں کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔پھر فرمایا ان کے اہل خانہ تک میرے دلی جذبات ہمدردی پہنچا دیں۔تیسری اور آخری ہدایت آپ نے خاکسار کو یہ دی کہ اس عبوری وقت میں دفتر صدر عمومی کی کارکردگی متاثر نہ ہونے پائے تا کہ اہل ربوہ کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔نیز دفتری معاملات اور حالات پر بھی نظر رکھیں۔علاوہ ازیں صدران محلہ کے ذریعہ ہر گھر تک وفات اور تدفین کی اطلاع پہنچا دیں اور میرے ساتھ بھی رابطہ رکھیں یہ تھا اس وقت کے محترم ناظر اعلیٰ وا میر مقامی کا اظہار محبت ، ہمدردی اور لگاؤ، جو ان کے دل میں محترم حکیم صاحب کی خدمات دینیہ اور دیرینہ خادم کیلئے تھا۔مرد میدان آپ انتہائی جرات مند نڈر اور بے خوف وخطر شخصیت کے مالک تھے۔اس پہلو سے بیشمار واقعات ہیں لیکن یہاں صرف ایک واقعہ پیش ہے۔ہمارے ایک محلہ کے صدر ماسٹر محمد حسین صاحب جو انتہائی متحرک اور فعال تھے اور ہیں۔ایک روز عالم پریشانی میں بھاگم بھاگ آئے محترم حکیم صاحب اپنے مطب کے سامنے کھڑے تھے۔آتے ہی موصوف نے کہا کہ فلاں جاگیردار ہمارے محلہ کی ایک شارع عام پر ناجائز دیوار جس کی چوڑائی 20 فٹ اور لمبائی تقریباً 150 فٹ تھی تعمیر کروارہا ہے۔گلی کے ایک کو نہ میں کمرہ کھڑا کر لیا ہے اور چھت ڈلوا کر دو سطح پہرے دار کھڑے کر دیئے ہیں۔جس سے گلی کے مکینوں کا راستہ بند ہو جائے گا۔صدر صاحب محلہ کی بات سنتے ہی آپ نے اپنے کیشیئر سے کہا کہ میں صبح سے تمہیں چوڑیوں کا ڈبہ کہ رہا ہوں آپ لاتے نہیں“ کیشیئر بیچارہ تو اس بات کو نہ سمجھ سکا۔صدر صاحب فوراً بولے اب چوڑیوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔حکیم صاحب نے فرمایا صدر صاحب میرے دست و باز و تو آپ ہیں۔آپ نے خشت اول کے وقت ہی اپنا بنیادی حق دفاع کیوں استعمال نہیں کیا۔آپ لوگ چاہتے ہیں کہ حکیم صاحب سے ہر معاملہ کی اجازت لینا ضروری ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر اچھا کام ہو گیا تو کہا ہم نے کیا ہے اگر کوئی گڑ بڑ ہوئی تو کہا مولوی صاحب نے حکم دیا تھا۔خاکسار کو جو ساتھ ہی کھڑا تھا مخاطب کرتے ہوئے فرمایا آؤ موقع پر چلیں ، جائے وقوعہ پر پہنچتے ہی آپ نے راج مزدوروں کوللکارا کہ خبردار اگر ایک اینٹ بھی مزید رکھی محترم حکیم صاحب کی شخصیت کا بفضلہ تعالیٰ ہر خاص و عام احمدی اور غیر از جماعت افراد پر بھی نیک اثر تھا۔چنانچہ مولوی صاحب کے ان فقرات کے بعد راج مزدوروں نے اپنے اپنے کام سے ہاتھ روک لیا۔اس پر محترم حکیم صاحب نے انہیں حکم دیا کہ یہ ناجائز تعمیر از خود فی الفور گرا دیں۔اس پر مستری اور مزدوروں نے دست بستہ عرض کیا کہ ہم شاہ صاحب کی رعایا ہیں ہم سے دیوار نہ گروا ئیں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ مزید ایک اینٹ بھی نہیں لگائیں گے۔آپ مہربانی فرما کر تعمیر کرنے والوں سے معاملہ طے کر لیں۔اس دوران محترم صدر صاحب محلہ بھی ہمارے پیچھے وہاں پہنچ گئے۔آپ نے صدر محلّہ سے فرمایا کہ یہاں نہ صرف تعمیر نہیں ہونے دینی بلکہ حسب سابق اور نقشہ کے عین مطابق راستہ بحال رہنا چاہئے۔حکیم صاحب نے فرمایا کہ سارا ملبہ اٹھا لیں ماسٹر صاحب کہتے ہیں کہ اہل محلہ نے عشاء کی نماز کے بعد سب کچھ اٹھا لیا۔آج تک ہم سے ملبے کے سامان کے بارے میں نہیں پوچھا گیا۔اس طرح محترم حکیم صاحب کی جرات اور دلیری کے نتیجہ میں نہ صرف ناجائز قبضہ کے آثار ختم ہوئے بلکہ آج تک وہ راستہ جاری و ساری ہے۔واپس آنے سے قبل محترم حکیم صاحب نے یہ ہدایت بھی فرمائی