یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 87 of 137

یادوں کے نقوش — Page 87

143 سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے آپ کی درخواست پر بعد نماز عصر خود بنیادرکھنے کا وعدہ فرمایا۔مگر علالت طبع کے باعث حضور تشریف نہ لا سکے۔حضور کے ارشاد پر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے سنگ بنیاد رکھا اور دعا کروائی۔اس تقریب کی رپورٹ اور فوٹو الفرقان ربوہ مارچ 1973 میں شائع ہوئی تھی۔خلیفہ وقت کی شفقت ایک مرتبہ سیدنا حضرت خلیفہ المسح الرائع نے حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی عدم موجودگی میں محترم حکیم صاحب کو امیر مقامی نامزدفرمایا۔خاکسار حکیم صاحب کے ساتھ کسی معاملہ میں مشورہ کے لئے بیٹھا تھا کہ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور جماعت کی دو معزز شخصیات محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب اور محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کمرے میں تشریف لائے۔محترم حکیم صاحب نے فوراً کہا آپ نے مجھے آنے کا حکم کیوں نہ دیا۔انہوں نے فرمایا حضور نے آپ کو امیر مقامی نامزد فرمایا ہے اور آپ کے منصب کا تقاضا ہے کہ ہم نے جو مشورہ اور بات کرنی ہے آپ کے پاس آ کر کریں۔حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب سے محبت و عقیدت محترم حکیم صاحب انتہائی بہادر اور جرات مند انسان تھے اور بہت فہم وفراست سے معاملات کو حل کیا کرتے تھے۔باوجود نامساعد حالات کے خاکسار نے ان کو کبھی پریشان ہوتے نہیں دیکھا۔بلکہ آپ کا معاملہ تو اس مصرعہ کے مصداق تھا کہ بع مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں سوائے ایک موقع پر جبکہ آپ کی غیر معمولی پریشانی دیدنی تھی اور یہ پریشانی صرف اس لئے تھی کہ اس میں حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ و “ 144 امیر مقامی کی تکلیف اور صعوبت کا خیال تھا جو آپ کو پریشان کئے دے رہا تھا۔ہوا یوں کہ ایک دفعہ ربوہ کے مجسٹریٹ نے آپ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے یہ خوشخبری سنائی اور فون پر بتایا کہ حکیم صاحب! میں نے کوشش کر کے آپ کا نام پولیس میں پرچہ درج ہونے سے قبل ہی کٹوا دیا ہے۔محترم حکیم صاحب نے استفسار فرمایا کیسا پر چہ اور کن کن کے خلاف درج ہوا ہے جواباً مجسٹریٹ نے بتایا کہ مرزا منصور احمد اور فلاں فلاں کے خلاف یہ مقدمہ درج ہوا ہے۔آپ نے یہ سنتے ہی مجسٹریٹ کا شکر یہ ادا کرنے کی بجائے انتہائی پریشان کن لہجہ میں شکوہ کیا کہ آپ کی یہ بات سن کر مجھے تکلیف ہوئی ہے اگر آپ نے میرا نام اس مقدمہ سے نکلوانا ہی تھا تو پھر میری جگہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کا نام نکلواتے۔اس صورتحال پر آپ بہت پریشان تھے اور بار بار یہ ذکر فرما رہے تھے کہ میرا نام مقدمہ سے خارج ہونے کی وجہ سے میں ایک بہت بڑے اعزاز سے محروم ہو گیا ہوں بلکہ گروہ منافقان میں شامل ہونے کے مترادف بنا دیا ہے۔اور پھر جب تک حضرت میاں صاحب کا مقدمہ ختم نہیں ہوا آپ مسلسل بے کل و بے قرار رہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ مقدمہ نمبر 80 مورخہ 6 مئی 1987ء بجرم 298c تھا نہ ربوہ میں درج ہوا۔جس میں حضرت میاں صاحب کے علاوہ دیگر 12 احباب جماعت شامل تھے اور ان خوش نصیبوں میں خاکسار کا نام بھی تھا۔پیار و محبت اور احساس کی ڈور میں بندھی اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمائیے۔جب محترم حکیم صاحب کی وفات کی اطلاع حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی تک پہنچی تو انہوں نے خاکسار کو اپنے پاس حاضر ہونے کو کہا۔جب میں ان کے پاس پہنچا تو مجھے دیکھتے ہی فرمانے لگے حکیم صاحب کی وفات کا مجھے دلی صدمہ ہوا ہے اور میرے دل پر اس نا گہانی خبر کا بہت اثر ہے اور آپ