یادوں کے نقوش — Page 89
147 کہ اگر اس سلسلہ میں کوئی باز پرس یا بات کرے تو میرا حوالہ دیں۔میں انہیں جواب دوں گا۔فریق ثانی نے محترم حکیم صاحب کا براہ راست سامنا کرنے کی بجائے مسلسل کئی ماہ تک آپ کے خلاف پولیس کارروائی کی ہر ممکن کوشش کی۔لیکن آپ کے اصولی اور مبنی بر حقیقت مؤقف کے باعث ان کی کوئی کوشش بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی۔الحمد لله على ذالک حضرت حکیم صاحب کے دور صدارت میں شاید ہی کوئی ناجائز قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا ہو۔خدمات سلسلہ اس سے قبل بھی ذکر آ چکا ہے کہ محترم حکیم صاحب کا تقرر بطور صدر عمومی لوکل انجمن احمد یہ ربوہ میں جون 1974ء میں ہوا۔آپ اس اہم عہدہ پر 20 سال تک فائز رہے اور یہ عرصہ جماعتی ابتلاؤں کے لحاظ سے غیر معمولی تھا۔جس میں قدم قدم پر نت نئے مسائل سامنے آتے رہے۔آپ نے ان کا مردانہ وار اور حکمت کے ساتھ جرات و بہادری سے مقابلہ کیا اور ہر میدان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیاب رہے۔دو خلفاء سلسلہ کا اعتماد اور محبت و اطاعت کا رشتہ قائم رہا۔اس کے ساتھ ساتھ آپ مجلس افتاء مجلس کار پرداز ، قضاء کے رکن اور قاضی بھی رہے۔آپ کی خدمات کے چند واقعات ہدیہ قارئین ہیں۔جب آپ نے اس عہدہ پر خدمات کا سلسلہ شروع کیا تو لوکل انجمن احمد یہ کا کوئی باقاعدہ دفتر نہ تھا نہ صرف دفتر بلکہ بقول مکرم مولوی محمد صدیق صاحب (سابق صدر عمومی و سابق لائبریرین ) کوئی کلرک تک بھی نہ تھا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ لوکل انجمن احمدیہ کا صحیح معنوں میں تعارف اور افادیت عام آپ ہی “ 148 کے عہد میں روز بروز اجا گر اور واضح ہوتی چلی گئی تو غلط نہ ہوگا۔جس کا بنیادی مقصد یہ بھی تھا کہ مرکز سلسلہ کے مرکزی دفاتر کا قیمتی وقت بچایا جائے تا کہ پاکستان بھر میں پھیلی ہوئی تمام جماعتوں کی خدمت اور تعلیم و تربیت پر کماحقہ مذکورہ دفاتر اپنی توجہ مرکوز رکھ سکیں۔ان حالات میں محترم حکیم صاحب نے صحیح معنوں میں حضور اور مرکز سلسلہ کی راہنمائی میں اہل ربوہ کی خدمت اور ان کے مسائل حل کرنے میں موثر اور مخلصانه تاریخی کردار ادا کیا۔جو ہمیشہ یادرکھا جائے گا۔حضور کے ارشادات ہدایات احکامات اور تحریکات کو ہمہ وقت سرفہرست رکھتے۔زیادہ تر بذات خود ہی اہل ربوہ کی خدمت پر کمر بستہ رہتے تھے۔اگر چہ ابتدائی دور میں روزمرہ کے سماجی و معاشرتی مسائل کے حل کیلئے دو مصالحتی بورڈ قائم تھے نیز بیسیوں مخلصین بھی لوکل انجمن احمدیہ میں خدمت سلسلہ کا اعزاز پارہے تھے۔اس زمانے میں حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے آپ کو فرمایا کہ آپ قواعد کے مطابق با قاعدہ اپنی مجلس عاملہ کی منظوری نظارت علیاء سے حاصل کریں۔اس کی تعمیل میں محترم حکیم صاحب نے مجلس عاملہ بنائی اور اس کی منظوری کی درخواست حضرت ناظر صاحب اعلیٰ کی خدمت میں پیش کی۔اس مجلس عاملہ کی تین سال کیلئے منظوری زیر نمبر 2337 مورخہ 24 /اکتوبر 1992ء کو دی گئی۔یہ سہ سالہ منظوری 30 جون 1995ء تک دی گئی تھی۔اس طرح محترم حکیم صاحب کے دور کی یہ پہلی اور آخری مجلس عاملہ تھی جسے آپ کے ساتھ خدمت سلسلہ کی سعادت نصیب ہوئی۔مجلس عاملہ کی تفصیل درج ذیل ہے۔1 - مکرم ریاض محمود صاحب مربی سلسلہ سیکرٹری اصلاح وارشاد و دعوت الی اللہ 2 مکرم ماسٹر اختر جاوید صاحب تقسیم کیسٹس وغیرہ مکرم صو بیدار صلاح الدین صاحب // // //