یادوں کے نقوش — Page 74
117 “ 118 حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری احمد نگر، ربوہ سے 3/4 کلومیٹر مغرب کی جانب سرگودھا روڈ پر واقع وہ خوش قسمت قصبہ ہے جہاں ہجرت کے بعد 1949ء میں جامعہ احمدیہ کا اجراء حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کے زیر سایہ استاذی المکرم حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی بے لوث قیادت میں انتہائی بے سروسامانی میں ہوا۔آغاز میں جو مشکلات اور نا مساعد حالات پیش آئے محض خدا تعالیٰ کے خاص فضل اور مخلص، بے نفس محنتی اور فرض شناس اساتذہ کرام کی دعاؤں اور انتھک محنت کے نتیجہ میں آسان ہوتے چلے گئے۔حضرت مولانا صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتیں عطا کر رکھی تھیں۔آپ جماعت میں منفرد مقام کے حامل تھے۔یہ آپ کی صفات حسنہ کا ثمر تھا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ نے آپ کو خالد احمدیت“ کے لقب سے نوازا تھا۔آپ نے اپنی زندگی میں جو عظیم الشان جماعتی خدمات سرانجام دینے کی توفیق پائی وہ تاریخ احمدیت میں سنہری حروف سے رقم ہوں گی۔آپ کی احمد نگر کے حوالہ سے چند یادیں سپرد قلم کرنے کی توفیق پارہا ہوں۔آپ کا روح پر ور خطاب سننے والوں میں وقتی جذ بہ پیدا کرنے کی بجائے دوررس تبدیلی پیدا کرتا تھا۔ہجرت کے بعد احمد نگر میں ابتدائی نامساعد حالات اور بنیادی ضروریات زندگی کے فقدان کے باعث نوعمر طلباء گھبرا گئے۔آپ نے طلباء میں بڑھتی ہوئی پریشانی کو بھانپتے ہوئے صبح کی اسمبلی میں مختصر خطاب کرتے ہوئے انتہائی پر جوش اور موثر انداز میں فرمایا۔موافق حالات میں تو ہر کوئی خوشگوار نتائج پیدا کر سکتا ہے۔جواں مرد تو وہ ہے جو نامساعد حالات میں خوشگوار نتائج پیدا کرے۔“ آپ کا یہ جامع فقرہ خاکسار کے ذہن میں ایسا نقش ہوا کہ جب بھی مشکل حالات سے دو چار ہوتا ہوں تو اپنے محسن اور محترم استاد کے یہ الفاظ ہمیشہ ڈھارس اور حوصلہ کا باعث بنتے ہیں۔احمد نگر میں بیت الذکر کا قیام آپ نے احمدی احباب کے لئے بیت الذکر کا فوری عارضی انتظام کیا۔بعد میں حالات کے مطابق اس میں توسیع کروائی۔مہاجرین کی آباد کاری دوسرا سب سے اہم کام احمد نگر میں مہاجرین کی آباد کاری کا تھا۔مرکز نے گورنمنٹ سے احمد نگر کی مترو کہ جائیداد مجموعی طور پر احمدی مہاجرین کے لئے الاٹ کرنے کی منظوری حاصل کی۔اور احمد نگر کی جماعت کے اکابرین پر مشتمل الاٹمنٹ کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں آپ کا نام نمایاں تھا یہ کمیٹی محکمہ مال کے تعاون سے مترو کہ مکان مہاجرین کو الاٹ کرتی۔یہ کام انتہائی کٹھن اور مشکل تھا۔اس سلسلہ میں حضرت مولوی صاحب اور کمیٹی کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا لیکن آپ نے انتہائی صبر و تحمل سے اس فریضہ کو با احسن سرانجام دیا۔آپ کے فیصلوں اور مشوروں کو متعلقہ سرکاری افسران واہلکار انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے کیونکہ آپ کے فیصلے استحقاق اور انصاف پر مبنی ہوتے۔احمد نگر میں مسلم لیگ کی صدارت آغاز میں ہی مسلم لیگ جو پاکستان کی بانی جماعت تھی کی طرف سے احمد نگر میں مسلم لیگ کی تنظیم قائم کرنے کے سلسلہ میں اجلاس عام ہوا جس میں گاؤں کے تقریباً