یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 75 of 137

یادوں کے نقوش — Page 75

“ 119 سبھی خور دو کلاں نے شمولیت کی جس میں غالب اکثریت مقامی غیر از جماعت بھائیوں کی تھی۔جن کی قیادت ، سادات خاندان اور مہر کرم علی صاحب سپر انمبر دار کا خاندان کرتا تھا۔لیکن اس کے برعکس احمدی احباب کی تعداد تو بہت کم تھی لیکن استاذی المکرم کی مقناطیسی روحانی ،سماجی شخصیت اور آپ کے حسن و احسان کے باعث اہالیان احمدنگر بلا امتیاز عقیدہ آپ کے معتقد تھے۔مسلم لیگی عمائدین جو انتخاب کروانے کے سلسلہ میں تشریف لائے ہوئے تھے جن کی طرف سے صدارت کے لئے رائے طلب کی گئی تو حاضرین نے بیک زبان حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کا نام پیش کیا۔اس طرح آپ احمد نگر میں مسلم لیگ کے پہلے متفقہ طور پر صدر منتخب ہوئے۔ایک با اثر غیر از جماعت ابھرتے ہوئے نو عمر جو بڑا زمیندار ہونے کے ناطے صدارت کے خود امیدوار تھے انہوں نے بھی مولوی صاحب کی بلند پایہ شخصیت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اٹھ کر مبارک باد دی۔جس پر حضرت مولانا صاحب نے انہیں گلے لگایا اور فرمایا کہ مہر صاحب! آپ نے اچھی روایت قائم کی ہے جزاکم اللہ احسن الجزاء اس پر اس نوجوان نے کہا یہ سب کچھ آپ سے سیکھا ہے۔وطن عزیز میں صدر پاکستان محمد ایوب خان نے 59-60ء میں بنیادی جمہوریت کے انتخاب کروانے کا اعلان کیا۔نظام سلسلہ کی طرف سے آپ کو یونین کونسل احمد نگر کے بی۔ڈی ممبر کا انتخاب لڑنے کا حکم ہوا۔اس وقت (1) موضع احمد نگر (2) موضع مل سپر ا (3) موضع پٹھانے والا اور (4) پیلووال سیداں چار مواضعات پر مشتمل حلقہ انتخاب کی 2 نشستیں تھیں جبکہ امید وار چار تھے۔ہم اس وقت نو عمر تھے ہمیں حضرت مولوی صاحب کی الیکشن مہم چلانے کا اعزاز حاصل تھا۔استاذی المکرم نے چاروں دیہات کا طوفانی دورہ کیا آپ کے پہنچنے سے قبل ہم لوگ پہلے پہنچ جاتے۔ذرائع ابلاغ اور رابطے کے لئے لاؤڈ سپیکر کی بجائے ہمارے پاس گھی کے “ 120 خالی ٹین ہوتے ہم ہر گاؤں میں ہر اول دستے کے طور پر پہلے پہنچ جاتے۔مناسب مقام پر جا کر زور زور سے ٹین بجاتے لوگوں کو اکٹھا کرتے چند خوش الحان ساتھ ہوتے جو خوش الحانی سے نظمیں پڑھتے۔لوگ اکٹھے ہو جاتے تو حضرت مولوی صاحب رفقاء کے ہمراہ جن میں مکرم مولوی احمد خان صاحب نسیم اور مکرم چوہدری ظہوراحمد صاحب آڈیٹر قابل ذکر ہیں۔آپ کبھی سائیکلوں پر اور کبھی تانگے پر پہنچ جاتے ان کے ساتھ ایک سائیکل پر چھوٹا لاؤڈ سپیکر ہوتا۔تلاوت ونظم کے بعد حضرت مولوی صاحب امیدوار کی خصوصیات اور حالات کے مطابق ایسا عام فہم خطاب فرماتے جس سے حاضرین و سامعین بے حد متاثر ہوتے اور بے ساختہ مولوی صاحب کے حق میں تائیدی نعرے ہمارے ساتھ بلند کرتے۔انتخاب کے روز پولنگ اسٹیشن پر انتہائی حیران کن بلکہ یہ خوش کن واقعہ پیش آیا۔ایک ضعیف نابینا غیر از جماعت ووٹر کو پولنگ اسٹیشن پر لایا گیا۔تو ہر امید وار نے اس کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی جبکہ مولوی صاحب باوقار اور پر سکون تشریف فرما تھے۔پریزائیڈنگ افسر نے ووٹر سے دریافت کیا کہ کس کو ووٹ دینا ہے تو اس نے کہا کہ مولوی صاحب کو۔اس طرح حضرت مولوی صاحب کو احمدی ووٹر ان کے علاوہ کثیر غیر از جماعت ووٹران کی حمایت سے غیر معمولی ووٹوں سے کامیابی نصیب ہوئی۔اس کامیابی کے پس منظر میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی بصیرت اور دوراندیشی کا غیر معمولی عمل دخل تھا۔سماجی خدمات اپنے لامتناہی دینی فرائض کے علاوہ آنے والے ہر خاص و عام کی دستگیری اور راہنمائی بشاشت قلب اور مسکراتے چہرہ سے فرماتے۔1950ء میں دریائے چناب میں شدید طغیانی آئی اور سیلابی ریلے نے دیکھتے ہی دیکھتے احمد نگر کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا۔سب سے پہلے آپ نے