یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 57 of 137

یادوں کے نقوش — Page 57

حضرت مولانا ظفر محمد صاحب ظفر 85 والد محترم مولانا ظفر محمد صاحب ظفر کا ذکر خیر کرنے سے قبل مناسب ہوگا کہ خاکسار کے دادا حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب مندرانی بلوچ کے بارے میں کچھ لکھا جائے تاکہ ان حالات سے آگاہی ہو جن سے گزر کر حضرت حافظ صاحب کو حضرت مسیح موعود کے رفقاء کرام میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت دادا جان اپنے علاقہ کے معروف زمیندار تو تھے ہی لیکن آپ کی نیک شہرت اور مقبولیت کا اصل سبب آپ کی طبعی شرافت، زہد و تقویٰ اور اس زمانہ میں عربی اور فارسی زبان کا علم رکھنا تھا۔آپ فارسی میں اشعار کہتے تھے۔آپ کا ایک قلمی مجموعہ بھی تھا مگر افسوس کہ وہ ضائع ہو گیا۔آپ نے حضرت مسیح موعود کی تائید میں فارسی کی ایک منظوم کتاب بھی لکھی تھی جس کی پہلی نظم کا عنوان ” سلام بنام امام مہدی تھا جس کا پہلا شعر یہ تھا۔اے السلام السلام یوسف نوح کشتی کنعان بان جب آپ قرآن پاک یا مثنوی رومی کا خوش الحانی سے درس دیتے تو بیت الذکر کے پاس سے گزرنے والے لوگ رک جاتے۔آپ کے شاگردوں میں جواں سال ، سفید ریش بزرگ پٹھان اور بلوچ بھی شامل ہوتے۔آپ کے والد صاحب کا قبول احمدیت ہمارے علاقہ میں اس وقت ایک صاحب کشف و کرامت بزرگ حضرت حافظ میاں رانجھا صاحب تھے جو حضرت دادا جان کے استاد تھے۔وہ علاقہ بھر میں “ 86 پیر و مرشد کا درجہ رکھتے تھے۔ہمارے دادا جان بھی ان کے معتقد اور معتمد مرید تھے۔ایک دن آپ نے اپنے مریدوں کی موجودگی میں دادا جان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔فتح محمد میری بات یا درکھنا کہ میں اس دار فانی سے گزر جاؤں گا آپ زندہ ہوں گے، آپ کی زندگی میں امام مہدی کا ظہور ہوگا انکار نہ کرنا۔اس وقت یہ عام تاثر تھا کہ جب امام مہدی کا نزول ہوگا تو وہ جہاد بالسیف کا اعلان کریں گے۔اسی وجہ سے آپ نے اس وقت ایک تلوار خریدی، ساتھ ہی کندھے پر ہمیشہ چادر کھتے تھے تا کہ جونہی امام مہدی جہاد کے لئے پکاریں گے تو میں فوری لبیک لبیک کہتے ہوئے ان کے انصار میں شامل ہو جاؤں گا۔حسن اتفاق سے ہماری بستی کے ایک احمدی شخص جن کا نام مکرم محمد صاحب ولد محمود صاحب تھا جو بعد میں قادیان میں محمد شاہ کے نام سے معروف ہوئے ، حصول تعلیم کی خاطر راولپنڈی گئے اور حکیم شاہ نواز صاحب کے ہاں مقیم ہوئے۔(اس وقت میاں رانجھا صاحب اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو چکے تھے ) وہاں انہوں نے 1901ء میں حضرت مسیح موعود کا نام اور قادیان کا ذکر سنا تو فوراً قادیان چلے گئے کیونکہ انہیں اپنے پیرومرشد کی پیشگوئی اور حکم کہ انکار نہ کرنا یا تھا۔جاتے ہی بیعت کا شرف پایا۔کچھ عرصہ قیام کے بعد وہاں سے حضرت مسیح موعود کی چند کتب و تصاویر بھی وطن واپس لائے۔ان کتب کا مطالعہ اور تصاویر دیکھتے ہی بستی مندرانی کی آٹھ نیک فطرت سعید روحوں نے والد صاحب محترم کی روایت کے مطابق پہلے تحریری اور بعد میں دستی بیعت کا شرف پایا۔خاکسار کے دادا جان اور دیگر دو مخلصین کی تحریری بیعت کا الحکم 24 ستمبر 1901ء صفحہ 12 پر اس ترتیب سے ذکر ہے۔1۔حافظ فتح محمد صاحب ساکن مندرانی ضلع ڈیرہ غازی خان 2 عیسی خان صاحب ساکن مندرانی ضلع ڈیرہ غازی خان -3 فتح محمد صاحب کلاں ساکن مندرانی ضلع ڈیرہ غازی خان