یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 56 of 137

یادوں کے نقوش — Page 56

“ 33 83 نظر کرم کا صرف ایک واقعہ قارئین کرام کی نظر ہے۔خاکسار کی بیٹی کا رخصتانہ تھا حضرت میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا رخصتانہ کی دعا کے لئے تشریف لانے کی درخواست کی فرمایا کب اور کس جگہ تفصیل عرض کی فرمایا آؤں گا۔آپ تاریخ اور وقت مقررہ پر تشریف لائے خاکسار کے ہاتھ میں نکاح فارم دیکھ کر مجھے بلایا کہ ابھی نکاح ہونا ہے عرض کیا جی فرمایا جو نکاح پڑھے گا وہی دعا کرائے گا میں دعا میں شامل ہو جاؤں گا۔ادب کے تحت سن کر خاموش ہو گیا اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ نکاح پہلے پڑھوا لیا ہوتا تو شرمندگی بھی نہ ہوتی کہ میں نے حضرت میاں صاحب کا اتنا وقت بھی لیا اور دعا کرانے کی سعادت سے بھی اپنی غلطی کے باعث محروم رہا۔لیکن حضرت میاں صاحب کی بے نفسی اور اعلی ظرفی ملاحظہ فرمائیے کہ آپ نے ذرہ برابر بھی محسوس نہ کیا۔محترم مولوی سید احمد علی شاہ صاحب نے نکاح کے بعد دعا کرائی۔آپ نے دعا میں شمولیت فرمائی اور جاتی دفعہ بچی کے لئے تحفہ بھی عنایت فرمایا۔آپ نے اس وقت نہ بعد میں ناراضگی کا اظہار فرمایا بلکہ میری غلطی کی بر وقت اصلاح فرما کر مجھے سمجھایا تاکہ میں نکاح کے بعد مجلس میں حضرت میاں صاحب سے دعا کی درخواست کی غلطی نہ کروں اور آئندہ کے لئے اصلاح بھی فرما دی۔واقعی آپ عظیم بے نفس محسن اور سرا پا شفقت تھے۔خاکسارا اپنے اس مضمون کو حضرت میاں صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کے اس دعائیہ اقتباس پر ختم کرتا ہے جو آپ نے 12 دسمبر 1997ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمائے۔"پس اس ذکر خیر میں اگر چہ طول ہو گیا ہے لیکن یہ ذکر خیر ہے ہی بہت پیارا اب میں ساری جماعت کو حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے لئے دعا کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور بعد میں مرزا مسرور احمد صاحب کے متعلق بھی کہ اللہ تعالیٰ ان “ 84 کو بھی صحیح جانشین بنائے۔تو ہماری جگہ بیٹے کا مضمون پوری طرح ان پر صادق آئے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ خود ان کی حفاظت فرمائے اور ان کی اعانت فرمائے۔آمین ثم آمین (روز نامہ الفضل 17 نومبر 1998ء)