یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 58 of 137

یادوں کے نقوش — Page 58

48 87 نوٹ: (از ناقل) نمبر 2, 3 کا ایڈریس بستی مندرانی لکھا ہے۔یہ کون تھے والله اعلم بالصواب۔والد صاحب محترم فرمایا کرتے تھے کہ ان کے والد صاحب نے 1903ء میں دستی بیعت کا شرف پایا۔قادیان میں 2015 دن تک برکات صحبت سے فیضیاب رہے۔واپسی پر اپنے نام رسالہ ریویو جاری کروایا۔بستی مندرانی میں بیعت کی سعادت پانے والے دیگر سعید فطرت رفقاء کی تفصیل حسب ذیل ہے۔1 - مکرم نور محمد خان صاحب برادر کلاں حافظ فتح محمد خان صاحب ، 2۔مکرم میاں نور محمد خان صاحب ثانی والد مکرم محمد مسعود خان صاحب، 3۔مکرم محمد مسعود خان صاحب ابن مکرم میاں نور محمد صاحب ثانی ، 4 مکرم بخشن خان صاحب ،5۔مکرم کرم خان صاحب مٹھوانی ، 6 مکرم میاں محمد صاحب ، 7 - مکرم عثمان خان صاحب۔مذکورہ افراد جنہوں نے اپنے پیرو مرشد کی پیشگوئی کو پہلے باندھ رکھا تھا حضرت مسیح موعود کے ظہور کی خوشخبری ملتے ہی کتب اور آپ کی شبیہ مبارک کو جو نہی دیکھا ان کا قلب صافی مزید تحقیق اور دلائل کا محتاج نہ رہا۔پہلے تحریری اور پھر جوں جوں موقع ملا دستی بیعت کا شرف بھی پاتے رہے۔واقعی یہ بات ٹھیک ہے کہ صاف دل کو کثرتِ اعجاز کی حاجت نہیں اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوف کردگار بستی مندرانی کا تعارف حضرت حافظ فتح محمد صاحب کا مولد ومسکن سلسلہ ہائے کوہ سلیمان کے دامن میں واقع بستی مندرانی تھا۔یہ بستی دریائے سندھ کے مغربی کنارے تحصیل تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں واقع ہے اور عام قبائلی رواج کے مطابق اس بستی کا نام ایک “ 88 بڑے قبیلے نتکانی کی مندرانی شاخ سے موسوم ہے۔چند سال قبل تک تو نسہ شریف سے بستی مندرانی تک کا فاصلہ (جو قریباً 10 کلومیٹر ہے ) یا تو پا پیادہ طے کرنا پڑتا تھایا پھر بذریعہ اونٹ۔یہ تمام علاقہ مذہبی رواج و اطوار کا حامل ہے۔یہیں سے وہ سعید فطرت انسان حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب اور آپ کے برادر حقیقی حضرت نور محمد خان صاحب اور دیگر رفقاء دولت ایمان سے مالا مال ہوئے جو ظہور امام الزمان کی خبر پاکر صحراؤں اور جنگلوں کو عبور کرتے ہوئے کسی نہ کسی طرح قادیان پہنچے۔حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب کے چھ بیٹے تھے جن میں سب سے چھوٹے بیٹے عبدالکریم خان تو صغرسنی میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے جبکہ باقی پانچ بیٹے مکرم قا در بخش خان صاحب اور مکرم غلام محمد خان صاحب ایک اہلیہ سے تھے جبکہ آپ کی دوسری زوجہ محترمہ سے مکرم علی محمد خان صاحب خاکسار کے والد محترم ظفر محمد خان صاحب اور سب سے چھوٹے مکرم عبدالرحیم خان صاحب تھے۔یہ پانچوں بھائی بفضل اللہ تعالیٰ مخلص احمدی تھے ( آخر الذکر دونوں بھائیوں کے سوا باقی تینوں بھائی اپنے آبائی علاقہ میں ہی مدفون ہیں ) اور ان سب کی اولا د در اولاد نہ صرف سلسلہ سے وابستہ ہے بلکہ اپنے اپنے دائرہ میں حتی المقدور دعوت الی اللہ اور خدمت سلسلہ کی سعادت بھی پارہی ہے۔ابتدائی حالات حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب اور محترمہ سردار بیگم صاحبہ کے ہاں 9 را پریل 1908ء کو والد صاحب محترم کی ولادت ہوئی آپ اپنے بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھے۔ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں ہی حاصل کی اور مزید تعلیم کے سلسلہ میں قادیان چلے گئے۔آپ 22 مارچ 1921ء کو قادیان پہنچے۔1922ء