یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 54 of 137

یادوں کے نقوش — Page 54

79 ضرورت پوری ہو جائے۔چھوڑ دیں کھرا اور تلاش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ اپنے ذاتی نقصان کی رائی برابر بھی فکر نہ کرتے اور نہ ہی اس کو کوئی اہمیت دیتے جب کہ ایک غریب بے کس کی بھینسوں کیلئے تمام ذرائع استعمال کروائے۔واقعی آپ نے ہمیشہ خلوص اور ہمدردی سے ”نیویاں نال نبھائی اور خوب نبھائی۔مظلوم کی ہمدردی آپ کے زرعی فارم کے تمام ملازمین تقریباً غیر از جماعت تھے جو آپ کو بے حد عزیز اور پیارے تھے۔ان کی تکلیف پر آپ تڑپ اٹھتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے ملازم مکرم نور محمد صاحب پنجوانہ اور اس کی برادری کے چند افراد کو مخالفین نے ایک بہت بڑے افسر کی اشیر باد سے ایک جھوٹے مقدمہ میں تھانہ لالیاں میں پکڑوا دیا۔مکرم حضرت میاں صاحب کے فرمان کی تعمیل میں ایک ہفتہ مسلسل کوشش سے انہیں رہائی نصیب ہوئی۔جب تک یہ بے گناہ پولیس حراست میں رہے حضرت میاں صاحب ان کی رہائی کے لئے مضطرب اور پریشان رہے۔دوران حراست و تحقیق و تفتیش انہیں ہر قسم کی سہولت فراہم فرماتے رہے۔حضرت میاں صاحب کا اپنے ملازموں کے ساتھ مثالی حسن سلوک کا ہی یہ نتیجہ تھا کہ حضرت میاں صاحب کے جسد خاکی کی زیارت کے وقت خاکسار نے انہیں بچشم خود دھاڑیں مار مار کر روتے دیکھا ہے۔اپنے تو اپنے غیر از جماعت میں سے جو ایک دفعہ آپ سے شرف ملاقات کر جاتا وہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا۔آپ کی وفات پر ربوہ اور ماحول ربوہ کے غیر از جماعت خاص و عام بکثرت تعزیت کے لئے حاضر ہوتے رہے۔ربوہ میں مقیم ایک انتہائی بااثر تعلیم یافتہ غیر از جماعت دوست جن کا خاندان ضلع بھر میں سیاسی سماجی اور اقتصادی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے جب افسوس پر تشریف لائے تو مجھے بتایا کہ جس “ 80 80 دن حضرت میاں صاحب کی وفات ہوئی اسی شام میں نے حضرت میاں صاحب کے جسد خاکی کی زیارت کی تھی آپ کے چہرہ مبارک پر نور دیدنی تھا۔جماعت کے ایک کٹر مخالف کی زبانی جب میں نے مرزا صاحب کی تعریف سنی تو میں حیران رہ گیا میں نے کہا کہ آپ اور میاں صاحب کی تعریف اس پر اس نے کہا مخالفت اپنی جگہ پر میری معلومات کے مطابق وہ صحیح معنوں میں عظیم انسان تھے۔انفرادی ہمدردی کے بے شمار واقعات احباب جماعت کے زبان زدعام ہیں جب کبھی بھی کسی مستحق کا معاملہ پیش ہوتا تو آپ فراخ دلی سے اس کی معاونت فرماتے۔ایک دفعہ خاکسار کے پاس ایک عزیز تشریف لائے جو 9 بچوں کے واحد کفیل تھے آمدنی انتہائی محدود جبکہ بیٹیاں بڑی اور 2 بیٹے چھوٹے تھے اور تقریباً سب کے سب زیر تعلیم تھے۔اس دوست نے بتایا بڑی بیٹی کے رخصتانہ میں دو یوم باقی ہیں حسب توفیق معمولی تیاری تو کر چکا ہوں لیکن بارات کو کھانا دینے کے لئے قطعاً گنجائش نہیں ہے یہ آخری الفاظ انہوں نے بھرائی آواز میں بمشکل ادا کئے اور پھر خاموش ہو گئے۔خاکسار اس عزیز کے حالات سے پہلے ہی بخوبی واقف تھا۔وقت اور حالات کے تقاضا کے پیش نظر حضرت میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہ آیا۔حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کیسے آئے ہو۔جھجکتے جھجکتے صورت حال عرض کی تو فرمایا کتنے مہمان متوقع ہیں عرض کیا کہ 40/50 افراد کے کھانے کا بندوبست ہو جائے تو گزارہ ہو جائے گا۔آپ نے فرمایا۔ایسے موقعہ پر اتنی تعداد تو لڑکی والوں کے گھر کی ہو جاتی ہے تو کیا اس کے بعد یم ستحق دوست کسی اور کے سامنے دست سوال دراز کریں گے۔چنانچہ آپ نے اس دوست کی توقع سے زیادہ معقول رقم کا فوراً انتظام فرمایا۔حضرت میاں صاحب کا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا۔مہمانوں کی تعداد 100 سے بڑھ گئی لیکن آپ نے جو