یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 55 of 137

یادوں کے نقوش — Page 55

81 “ 82 82 وہ امداد فراہم کی تھی اس میں تمام مہمانوں کی باعزت ضیافت مکمل ہوئی۔اس طرح حضرت میاں صاحب کی شفقت سے ایک غریب کو اپنی بیٹی کو باعزت رخصت کرنے کی توفیق میسر آئی، اس کا غم اور فکر تشکر اور حمد کے جذبات میں بدل گیا۔حضرت میاں صاحب کی فیاضی کا یہ وصف تو خاص طور پر منفر د تھا جس مستحق کی امداد فرماتے آپ کی یہ خواہش نہ ہوتی کہ وہ شخص کون ہے کہاں ہے میرے سامنے آئے۔نہ امداد کرتے وقت یہ کوشش ہوتی اور نہ ہی امداد کے بعد اس قسم کی خواہش کا کوئی امکان ہوتا وہ جو کام اور امداد کرتے وہ محض اللہ سرانجام دیتے جس میں دکھاوا اور خودنمائی کا تو شائبہ تک کبھی بھی دیکھنے میں نہ آیا۔آپ جو کام بھی کرتے اس میں خلق خدا کی ہمدردی اور رضائے الہی پیش نظر ہوتی۔مکرمی قدسی صاحب نے آپ کی سخاوت کے بارہ میں خوب فرمایا۔سخاوت جو ہے طرہ خاندان پاک کا اس سخاوت کی وہ جیتی جاگتی تصویر تھا سخاوت دلداری ہمدردی کا یہ رنگ بھی قابل ذکر ہے۔ایک احمدی خاتون جو انتہائی مخلص لجنہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی تھیں۔وہ جب کراچی گئیں تو ان کی عدم موجودگی میں چور گھر کا صفایا کر گئے حتی کہ روز مرہ کے پار چات دیگر بنیادی ضرورت کی اشیاء بھی چور لے گئے۔محترمہ کے خاوند کی آمدنی انتہائی قلیل تھی۔اس خاتون کے نقصان کی اطلاع جب حضرت میاں صاحب کو ہوئی تو آپ نے مکرم حکیم خورشید احمد صاحب کوارشاد فرمایا:۔کہ محترمہ کی چوری کا سراغ لگوائیں نیز اس قدر نقد امدادفرمائی کہ جس سے وہ گھر کی بنیادی اشیاء خرید سکے حضرت میاں صاحب کی اس دلداری اور ہمدردی سے اس خود دار مخلص خاتون کی پریشانی اور تکلیف کا باعزت ازالہ ہوا۔غریب پروری غریب لوگوں کی تکلیف پر آپ تڑپ اٹھتے تھے۔وفات سے چند ماہ قبل کی بات ہے کہ خاکسار کو بلوایا اور فرمایا کہ میرے علم میں آیا ہے کہ فلاں رکشہ ڈرائیور کو پولیس نے پکڑ لیا ہے فوری رابطہ کر کے تحقیق کریں اگر رکشہ ڈرائیور کا قصور ہو تو اس کا جرمانہ حرجانہ جو نقصان مدعی کا ہوا ہے میں اس کی ادائیگی کر دوں گا آپ اس کو رہائی دلوائیں۔چنانچہ حسب ارشاد تھانہ میں جا کر بغیر جرمانہ کے معاملہ رفع دفعہ کروا کر ڈرائیور کو رہائی دلوائی۔اس طرح حضرت میاں صاحب کی ذاتی توجہ اور احساس کے نتیجہ میں اس غریب محنت کش کو رہائی نصیب ہوئی جو آپ کی غریب پروری کی مثال ہے۔اس عاجز کے ساتھ ہمیشہ شفقت سے پیش آتے۔سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوا بہلانے پر حاضر ہوا تو فرمایا مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ ریٹائر ہو گئے ہیں عرض کیا جی ہاں فرمایا۔آپ نے کہیں نوکری وغیرہ نہیں کرنی میرے ساتھ رابطہ رکھیں چند ماہ تسلسل سے رابطہ رکھا حسب ارشاد جماعتی امور کی تکمیل کی سعادت ملتی رہی۔اس دوران حضرت میاں صاحب جس محبت شفقت سے دلجوئی اور دلداری فرماتے رہے اس کا نقشہ الفاظ میں بیان کرنے سے بالکل قاصر ہوں۔چند ماہ بعد حاضر ہوا عرض کیا خاکسار کو نظارت امور عامہ میں ملازمت کا موقعہ میسر آ رہا ہے اگر اجازت ہو تو باقاعدہ ملازمت کرلوں بڑی خوشی سے فرمایا کہ میری خواہش بھی یہی تھی کہ آپ ربوہ میں ہی لوکل انجمن احمد یہ میں یا نظارت امور عامہ میں کام کریں۔آپ سرا پا شفقت تھے آپ کی کس کس شفقت کا تذکرہ کیا جاوے اور کس کس کو چھوڑا جائے کیونکہ محدود وقت میں تو محدود با تیں ہی کہی اور لکھی جاسکتی ہیں۔مزید