یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 44 of 137

یادوں کے نقوش — Page 44

“ 61 لائیں۔میں چاہتا ہوں کہ اس علاقہ کے کسی نوجوان کو اوپر لایا جائے تا کہ انہیں سماجی لحاظ سے ابھرنے کا موقعہ ملے۔چنانچہ جائزہ کے بعد مکرم مولوی صاحب نے مہر خورشید احمد صاحب سپرا کا نام تجویز کیا۔مہر خورشید احمد صاحب کی فیملی احمد نگر کے احمدی زمینداروں خصوصاً عبدالرحمن صاحب اور عبدالکریم صاحب نمبردار کے بھی زیر اثر تھی۔مہر خورشید احمد صاحب کے مختصر انٹرویو کے بعد آپ نے فرمایا کہ آپ الیکشن میں براہ راست حصہ نہیں لے رہے ہیں مگر میں چاہتا ہوں کہ نئی نسل کے پڑھے لکھے نو جوان آگے آنے چاہئیں۔میں محترم مولانا ابوالعطاء صاحب کی سفارش کے باعث آپ کو تحصیل کونسل چنیوٹ میں بطور ممبر نامزد کراؤں گا۔انشاء اللہ۔یہ بات ان کے لئے کسی اعزاز سے کم نہ تھی کہ تحصیل کی سطح پر پسماندہ اور عرصہ سے جاگیر دارانہ نظام کے تحت دبے ہوئے معمولی نوعمر زمیندار کا تحصیل کونسل میں نامزد ہونا بظاہر مشکل بلکہ ناممکن نظر آرہا تھا۔چنانچہ اس قبیلہ نے محترم مولانا صاحب کو الیکشن میں کامیاب کرانے میں بھر پور کردار ادا کیا جس سے مکرم مولانا صاحب غیر معمولی ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔الیکشن کے دوران مخالفین نے اس پیشکش کو وقتی سیاسی حربہ قرار دیا اور کہا ایسے عام شخص کو تو یونین کونسل میں بھی کسی نے نامزد نہیں ہونے دینا تحصیل کونسل میں تو نامزدگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔مکرم مولا نا صاحب کی کامیابی کے بعد حضرت میاں صاحب نے اپنے وعدہ کے مطابق تحصیل کونسل چنیوٹ میں مکرم مہر خورشید صاحب کو ممبر نامزد کروایا۔انتہائی بے انصافی ہوگی اگر اس موقع پر مکرم مہر خورشید احمد صاحب مرحوم کا ذکر خیر نہ کیا جائے جنہوں نے تحصیل کونسل میں نامزدگی کے بعد تادم واپسیں کمال اخلاص سے ہر حال میں جماعت کے ساتھ عُسر ئیسر میں تعلقات کو استوار رکھا۔“ 29 62 خصوصاً 1974ء میں جب ربوہ کے بے شمار بے گناہ معصوم شہریوں کے خلاف مقدمات قائم کر کے پابند سلاسل کیا گیا۔کئی ماہ کے بعد ان کی ضمانتوں کی امید پر خاکسار کو یہ فریضہ سونپا گیا کہ کم از کم یک صدایسے ضامنوں کا انتظام کروں جو زرعی زمین کے مالک ہوں وہ اپنی اراضی کی فرد ملکیت کے ہمراہ ربوہ تشریف لاویں۔اس سلسلہ میں سب سے زیادہ تعاون مکرم مہر خورشید احمد صاحب اور ان کی سپر ابرادری نے کیا۔جو صبح ربوہ تشریف لاتے اور عدالتوں کے اوقات تک ہمارے ہمراہ دارالضیافت کے سامنے والے پلاٹوں میں درختوں کے سائے تلے انتظار کرتے جب علم ہوتا کہ عدالت نے آج ضمانت نہیں لی کل کی تاریخ ڈال دی ہے تو یہ لوگ واپس چلے جاتے۔مخلص ہمسائے بلا امتیاز عقیدہ کئی دن مسلسل تشریف لاتے رہے اور اس وقت کی متعصبانہ مخالفت کی آندھی سے مکمل بے نیاز حق دوستی و ہمسائیگی کمال اخلاص سے نبھائی جب تک اسیران راہ مولیٰ کی ضمانتیں منظور نہ ہوئیں۔مکرم مہر خورشید احمد صاحب کی وفات کے بعد اس قبیلہ کے افراد نے جماعت سے رشتہ اخوت و عقیدت قائم رکھا ہوا ہے۔یہ سب کچھ ماحول ربوہ میں سید نا حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی بصیرت اور دوراندیشی کا کرشمہ تھا۔مکرم مہر صاحب کی اس نامزدگی سے علاقہ بھر میں جماعت کی ایفائے عہد اور اثر و رسوخ کا اس قدر نیک اثر ہوا کہ ماحول ربوہ کے خاص و عام نہ صرف اپنے مسائل کے حل کے سلسلہ میں حضرت میاں صاحب سے رابطہ اور تعلق بڑھانے کے سلسلہ میں کوشاں رہنے لگے بلکہ آنے والے انتخابات میں بھی آپ کی راہنمائی اور مشورہ و اعانت کو کامیابی کی کلید تصور کرنے لگے۔