یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 43 of 137

یادوں کے نقوش — Page 43

“ 59 “ 60 60 ہی کیا۔جس پر مہر صاحب نے دلی شکریہ کے ساتھ رقم رکھ لی اور صحت یابی کے لئے دعا کی درخواست بھی کی۔اس طرح حضرت میاں صاحب نے احسان کا بدلہ احسن رنگ میں چکا کر ہی دم لیا جبکہ محترم مہر صاحب کی اعلیٰ ظرفی اور اس غیر معمولی تعاون کو نہ صرف یا درکھا بلکہ متعدد مواقع پر حتی کہ مہر صاحب کی وفات کے بعد ا کثر اس واقعہ کا ذکرفرماتے رہے۔ما حول ربوہ کے زمینداروں کی بہبود کا جذبہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب باوجود لامتناہی ، جماعتی اور تعلیمی مصروفیات کے ماحول ربوہ کے غیر از جماعت احباب سے ذاتی رابطے اور تعلق کو خصوصی اہمیت دیتے تھے۔آپ فرماتے تھے ماحول ربوہ کے غریب سادہ عوام خصوصی توجہ اور ہمدردی کے مستحق ہیں۔یہ لوگ نسلاً بعد نسل تحصیل چنیوٹ کے چند جاگیر داروں کے بندھن میں ایسے جکڑے ہوئے ہیں کہ باوجود جو ہر قابل ہونے کے انہیں ابھر نے ترقی کرنے خصوصا تعلیمی سہولتوں کے فقدان نے دوسرے درجہ کا غلام شہری بنارکھا ہے۔جب کبھی علاقہ کے متوسط لیڈر ملنے کے لئے آتے تو آپ فرماتے آپ خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے زیر اثر چند صد یا چند ہزار ایسے افراد ہیں کہ جو انتخابات میں ہماری رائے کے تابع ووٹ دیتے ہیں۔یا جو ہم کہیں وہ کر گزرتے ہیں۔آپ استفسار فرماتے کہ ان میں سے کتنے لوگ تعلیم یافتہ ہیں؟ جب یہ جواب ملتا کہ نہ ہونے کے برابر آپ دریافت فرماتے کیا وہ لیڈر زیادہ بااثر اور کامیاب تصور کیا جائے گا جو ناخواندہ افراد کا لیڈ ر ہو یاوہ لیڈ رجو تعلیم یافتہ افراد کا قائد ہو۔اس قسم کی مثبت مثالیں دے کر آپ ان کو اس طرف توجہ دلاتے کہ اپنے اپنے حلقہ اثر کے عوام خصوصاً نئی نسل کو تعلیمی سہولتیں مہیا کریں تا کہ یہ لوگ نہ صرف اپنے علاقہ بلکہ وطن عزیز کے لئے بھی مفید ترین شہری بن سکیں۔صدر ایوب خان نے جب سال 1959ء میں بنیادی جمہوریت کے پہلے انتخابات کروائے تو آپ نے ربوہ کے قرب و جوار میں رہنے والے ووٹر ان میں سے مثبت شعور رکھنے والے افراد کو انتخابات میں کھڑا ہونے کا حوصلہ عطا فرمایا اور ان کی بھر پور راہنمائی و سماجی معاونت کی جس کے نتیجہ میں ہرل برادری جو ماحول ربوہ میں کثیر تعداد میں آباد ہے ان میں سے مہر احمد خان صاحب ہرل سکنہ کھڑ کن کا نام قابل ذکر ہے جو بطور ممبر یونین کونسل منتخب ہوئے۔مہر احمد خان صاحب کا مکرم مولوی احمد خان صاحب نسیم سے تادم واپسیں مستقل رابطہ رہا۔احمد نگر سے استاذی المکرم حضرت مولانا ابو العطاء صاحب بطور بی۔ڈی ممبر کامیاب ہوئے۔1۔احمد نگر 2 پیلو وال سیداں۔3 پٹھان والا۔4 مل سپر اوغیرہ تقریباً چار دیہات پر مشتمل مشتر کہ ایک حلقہ انتخاب تھا۔جس کی کل نشستیں 2 تھیں جبکہ چار امیدوار انتخابی اکھاڑے میں آمنے سامنے تھے۔چاروں دیہات میں سے احمدی ووٹر اس وقت صرف احمد نگر تک محدود تھے۔جبکہ اکثریت غیر از جماعت ووٹران پر مشتمل تھی۔احمد نگر کی انتخابی فہرست کے مطابق احمدی ووٹر تیسرا حصہ بھی نہ تھے۔ان حالات میں مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب کی کامیابی بظاہر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھی۔حضرت میاں صاحب نے مذکورہ دیہات کا جائزہ لیا تو احمد نگر کے بعد سب سے زیادہ ووٹ موضع مل سپرا کے تھے۔آپ نے موضع مل سپرا کے ووٹوں اور خاندانوں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس گاؤں میں ایک با اثر قبیلہ کے لوگ جو مانک کے سپرا کہلاتے ہیں ان میں سے کوئی بھی بنیادی جمہوریت کا الیکشن نہیں لڑ رہا۔آپ نے مولانا ابوالعطاء صاحب کو فرمایا کہ اگر اس قبیلہ میں کوئی تعلیم یافتہ نوجوان ہے تو اس کو میرے پاس