یادوں کے نقوش — Page 45
دلداری اور شفقت کا اظہار 63 حضرت ماریہ اصبح الثالث کی احمد نگر میں زرعی زمین تھی جب گندم کی کٹائی شروع ہوئی تو حضور جائزے کی غرض سے زمینوں پر تشریف لے گئے۔وہاں پر حضور کے ایک انتہائی قریبی عزیز پہلے سے ہی نگرانی پر مامور تھے۔حضور جب بعد از جائزہ واپس تشریف لے جانے لگے تو اپنے اس عزیز سے کہا کہ آج آپ کے لئے کھانا ناصر ظفر اپنے گھر سے لائے گا۔آپ شام تک نگرانی کریں یہ بات میرے لئے غیر معمولی عزت افزائی اور دلداری کا باعث تھی۔چنانچہ گھر پہنچا وقت کی قلت کے باعث جو کھانا لے کر حاضر ہوا اس میں ساگ کی بھی ڈش تھی۔ابھی ہم کھانا کھا ہی رہے تھے کہ حضور اچانک وہاں تشریف لے آئے جہاں ہم کھانا کھا رہے تھے۔آپ نے اس عاجز کی عزت افزائی کی خاطر ایک لقمہ ساگ کا تناول فرمانے کے بعد جس محبت اپنائیت اور ستائشی نظر سے خاکسار کی طرف دیکھا اس کو الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کی وفات حضرت خلیفہ المسح الثالث نے سیدہ منصور بیگم صاحبہ کی وفات (3 دسمبر 1981ء) کے بعد خاکسار کو یاد فرمایا اور یہ ہدایت دی کہ ماحول ربوہ سے آنے والے غیر از جماعت دوست جو تعزیت کے لئے تشریف لائیں تو آپ دفتر سے ایک رجسٹر لے لیں اور آنے والے احباب کی موسم اور وقت کی مناسبت سے ضیافت کے علاوہ ان کے نام کوائف درج کرتے رہیں۔ایسے احباب سے مزید روابط اور تعلقات ضروری ہیں اور آنے والے وقت میں ان کی خوشی و غمی میں جماعتی نمائندگی کا اہتمام ضرور کرنا ہوگا۔“ 64 چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں ماحول ربوہ سے آنے والے بہت سے معزز احباب کے کوائف ریکارڈ کئے گئے۔حضور کے اس ارشاد پر کہ آنے والے وقت میں ان احباب کی غمی و خوشی میں شامل ہونا ضروری ہے“ کے تناظر میں ایک غیر از جماعت دوست جو ممبر اسمبلی بھی رہے اور حضور سے رابطہ رکھتے تھے۔ان کی والدہ کی وفات پر حضور نے مکرم مولوی احمد خان صاحب نسیم اور خاکسار کو یہ ہدایت دی کہ میری طرف سے مہر صاحب کے پاس جا کر تعزیت کریں۔ساتھ ہی یہ بھی ارشاد فر مایا کہ چونکہ اس علاقہ کے رواج کے مطابق قریبی تعلق والے احباب جب افسوس کے لئے جاتے ہیں تو گھی ، بکرے، گندم وغیرہ ساتھ لے جاتے ہیں۔کیونکہ لوگ کثیر تعداد میں تعزیت کے لئے آتے ہیں اور ان کی ضیافت کا اہتمام کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔اس لئے متاثرہ خاندان سے اظہار ہمدردی کے طور پر یہ روایت کافی اچھی ہے۔اس لئے آپ میری طرف سے دو بکروں کی اوسط قیمت مہر صاحب کو دے دیں۔چنانچہ حسب ارشاد حضور کے حکم کی تعمیل کی گئی۔آخری ملاقات اور آپ کی شفقت ہمارے والد محترم مولانا ظفر محمد صاحب ظفر 23 را پریل 1982ء کو وفات پاگئے۔آپ کو حضور کے ہم مکتب ہونے کا اعزاز وشرف بھی حاصل تھا۔حضور نے اسلام آباد جانے سے ایک یوم قبل مورخہ 22 مئی 1982ء کو از راہ شفقت ہمارے تمام اہل خانہ کو یا دفرمایا۔جس میں ہماری والدہ صاحبہ کے علاوہ ہم تین بھائی اور ہمارے اہل وعیال شامل تھے۔ملاقات کے کمرہ میں سب لوگ بیٹھ گئے مگر جگہ کی کمی کے باعث خاکسار کھڑا رہا۔جب حضور رونق افروز ہوئے تو سلام کرنے کے بعد فوراً فرمایا کہ ناصر ظفر