یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 126 of 137

یادوں کے نقوش — Page 126

219 بعد امام مہدی تشریف لائیں گے آپ جہاں بھی ہوں لبیک کہتے ہوئے جا کر بیعت کرلیں۔آپ کو جب حضرت مسیح موعود کی آمد کی اطلاع ملی تو یہ ایسا دور تھا کہ کوہ سلیمان کے دامن میں بسنے والوں کو پیدل ریت کے ٹیلوں اور پتھریلی دشوار گزار راستوں سے گزرنا پڑا۔سوائے اونٹ کے اور کوئی سواری نہ تھی ان حالات میں مشکل ترین ا طویل راستہ پیدل عبور کر کے بانی سلسلہ تک پہنچے۔یـاتـون من كل فج عميق کے مصداق ہوتے ہوئے شرف بیعت پایا۔صاف دل کو کثرت اعجاز کی حاجت نہیں اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوف کردگار حضرت مسیح موعود نے آپ کے ایک خط کے جواب میں تحریر فرمایا۔( یہ خط غالباً غیر مطبوعہ ہے) انسان جب سچے دل سے خدا کا ہو کر اس کی راہ اختیار کرتا ہے تو خود اللہ تعالیٰ اس کو ہر یک بلا سے بچاتا ہے اور کوئی شریر اپنی شرارت سے اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔کیونکہ اس کے ساتھ خدا ہوتا ہے۔سو چاہئے کہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کو یا درکھو اور اس کی پناہ ڈھونڈ واور نیکی اور راست بازی میں ترقی کرو اور اجازت ہے کہ اپنے گھر چلے جاؤ اور اس راہ کو جو سکھلایا گیا ہے فراموش مت کرو کہ زندگی دنیا کی ناپائیدار اور موت در پیش ہے اور میں انشاء اللہ دعا کروں گا“۔لے یہ خط ہمارے خاندان کے پاس آج بھی محفوظ ہے۔والسلام خاکسار ( دستخط) مرزا غلام احمد یکم اپریل 1903ء “ 220 قادیان اور کشمیر میں دعوت الی اللہ کی توفیق ملنے کے ساتھ آپ نے وصیت کی سعادت بھی پائی۔آپ کی وفات اگر چہ کشمیر میں ہوئی۔گزشتہ سال عزیزم آصف ظفر کو قادیان جلسہ پر جانے کی سعادت نصیب ہوئی تو اسے بہشتی مقبرہ میں بار بار دعاؤں کی توفیق میسر آئی۔وہاں میاں محمد شاہ صاحب کا یادگاری کتبہ نمبر 285 عمر 65 سال وفات 18 مارچ 1920ء جبکہ وصیت نمبر 819 درج ہے۔نیک ناموں کے نشاں زندہ رہیں گے حشر تک ع (روز نامه الفضل 7 جون 2010ء)