یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 127 of 137

یادوں کے نقوش — Page 127

221 “ 222 مکرم مہر جمیل احمد صاحب طاہر 17 جولائی 1991ء کی ایک صبح بوقت چھ بجے دروازہ پر دستک ہوئی۔باہر آیا تو احمد نگر کے ایک خادم نے یہ انتہائی المناک خبر سنائی کہ مکرم جمیل احمد صاحب طاہر ابھی ابھی کا لووال موڑ پر ایک تیز رفتار ٹرک کی زد میں آکر جاں بحق ہو گئے ہیں۔دبلے پتلے لیکن فولادی جسم و عزم کے حامل پچپن سالہ مکرم طاہر صاحب ایک مثالی احمدی تھے۔ایک دفعہ بیت الذکر احمد نگر میں تحریک جدید کے وعدے لئے جارہے تھے۔جماعت احمد نگر کے ایک انتہائی مخیر اور متمول دوست نے سب سے زیادہ وعدہ لکھوایا۔مکرم جمیل صاحب نے اپنا وعدہ اس دوست سے بھی زیادہ لکھوایا۔اس پر مذکورہ دوست نے مزید اضافہ کر دیا۔چنانچہ مسابقت فی الخیرات کا یہ سلسلہ جانبین میں شروع ہو گیا۔آخر جمیل صاحب سے درخواست کی گئی کہ آپ جس آدمی کا مقابلہ کر رہے ہیں وہ تو صاحب حیثیت ہے جبکہ آپ مزدور آدمی ہیں چنانچہ نیکیوں میں آگے بڑھنے کا یہ ایمان افروز مقابلہ مساوی وعدہ جات پر اختتام پذیر ہوا۔ایک بار حضور کی طرف سے عید کے موقع پر ایک خصوصی تحریک پیش ہوئی اور ساتھ ہی اعلان ہوا کہ مقررہ ٹارگٹ کے مطابق چندہ دینے والوں کی دعائیہ فہرست حضور کی خدمت میں پیش ہوگی۔اس وقت آپ کی کل پونچی مقررہ ہدف سے صرف یکصد روپے زائد تھی جبکہ دوسرے دن عید بھی تھی موصوف نے کمال ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹارگٹ کے مطابق نقد چندہ کی ادائیگی کر دی اور گھر آ کر کہا کہ میرے پاس صرف ایک سوروپے ہیں۔اس سے سارے خاندان کی عید ہوگی۔چنانچہ گھر والوں نے بڑی بشاشت کے ساتھ اسی رقم میں ہی عید کی خوشیاں منائیں چونکہ اصل عید کی خوشیاں تو ہیں ہی اسی میں کہ انسان رضائے الہی کی خاطر اپنا تن من دھن قربان کر دے۔مکرم جمیل صاحب محنت مزدوری کر کے رزق حلال سے اپنے کثیر کنبے کی کفالت کرتے تھے۔جب انسان کی مالی حالت خستہ ہو تو اس کی دنیاوی نگاہ اولاد نرینہ پر ہوتی ہے کہ بیٹا جوان ہو کر میرا ہاتھ بٹائی گایا اس کو دنیاوی تعلیم دلوا کر کسی منفعت بخش منصب پر فائز کروا کر اپنی اقتصادی و سماجی حالت کو بہتر بنالوں گا لیکن مکرم جمیل صاحب کی سوچ اس کے برعکس تھی۔ان کے بڑے بیٹے عزیزم شکیل احمد نے جب میٹرک پاس کیا تو ان کو معلوم ہوا کہ بیٹا تو کالج میں داخلے کا خواہاں ہے۔جمیل صاحب نے اپنے بیٹے کو پاس بٹھا کر کہا کہ سنا ہے کہ تم کالج میں داخلہ لینا چاہتے ہو جبکہ میری خواہش ہے کہ تم زندگی وقف کر کے جامعہ میں داخل ہو جاؤ۔اس کے بعد قدرے جذباتی اور آبدیدہ ہو کر کہنے لگے کہ اگر تمہیں میری خواہش عزیز نہیں اور تم ہر حالت میں کالج میں ہی داخلہ لینا چاہتے ہو تو پھر تمہارا اور میرا راستہ جدا جدا ہے۔تمہارے کفیل ہونے کے ناطے محنت مزدوری کر کے تمہارے اخراجات پورے کرتا رہوں گا لیکن متضاد نظریات کے باعث ہم ایک ساتھ اکٹھے نہیں مل سکیں گے۔باپ کے ان مخلصانہ جذبات اور نیک خواہشات پر سعید الفطرت بیٹے نے لبیک کہتے ہوئے زندگی وقف کر کے جامعہ میں داخلہ لے لیا اور آج بفضل تعالیٰ وہ ضلع ڈیرہ غازی خان میں سلسلہ کی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔مکرم جمیل صاحب کا جذبہ ایثار و فدائیت اور سلسلہ سے اخلاص و محبت ایک بیٹے کے وقف سے تسکین نہ پاسکا۔جب ان کا بیٹا عزیزم اسد پیدا ہوا تو انہوں نے ”وقف نو“ کا فارم منگوایا گھر میں بات کی کہ میں اسے وقف نو میں شامل کر رہا ہوں۔جمیل صاحب نے جب اپنے گھر میں اپنے اس نیک جذبہ کا اظہار کیا تو گھر کے ایک فرد نے کہا کہ پہلے ایک بیٹے کو وقف کر چکے ہو۔آگے وہ اپنی بات کو مکمل کرنا چاہتا تھا کہ جمیل صاحب نے ان کی بات کو قطع