یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 125 of 137

یادوں کے نقوش — Page 125

217 بارہ بجے دن کو طبیعت خراب ہوئی اور تقدیر الہی غالب آگئی تو پونے ایک بجے دن پندرہ منٹ کے انتہائی مختصر ترین وقت میں ہمشیرہ محترمہ نے اپنی جان نفس مطمعنہ کی طرح تقریباً 86 سال کی عمر میں جان آفرین کے سپرد کر دی۔دعا گو بہن آخری لمحات میں زبان حال سے یہ کہہ رہی تھی کہ بلالیا۔نہ روک راہ میں مولا شتاب جانے دے کھلا تو ہے تری جنت کا باب جانے دے مجھے تو دامن رحمت میں ڈھانپ لے یونہی حساب مجھ سے نہ لے بے حساب جانے دے سمیع و بصیر خدا تعالیٰ نے ہمشیرہ محترمہ کو چلتے پھرتے بغیر کسی لمبی بیماری کے اسی شام تونسہ شریف کی مقامی جماعت نماز جنازہ پڑھ کر 30 مخلص عزیز و اقارب کے ہمراہ بذریعہ بس مورخہ 15 نومبر 2009ء کو صبح محترمہ کے جسد خاکی کو دارالضیافت لائے۔یہاں ربوہ اور احمد نگر کی برادری کے بیسیوں خواتین وحضرات اپنی بزرگ بہن کے جسد خاکی کے استقبال اور غمزدہ برادری کی دلداری اور تعزیت کے لئے دارالضیافت میں موجود تھے۔تقریباً 10 بجے جسد خاکی کو دارالضیافت سے صدر انجمن احمدیہ کے لان میں لے جایا گیا جہاں صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر میں خدمات سرانجام دینے والے مخلصین بھی غیر معمولی تعداد میں نماز جنازہ میں شمولیت کے لئے پہنچے۔محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر صاحب مقامی نے نماز جنازہ پڑھائی۔“ 218 مرحومہ کا جسد خا کی تدفین کے لئے بہشتی مقبرہ لے جایا گیا۔تابوت کو قبر میں اتار دیا گیا تو محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نے ہی تشریف لا کر دعا کرائی۔محترمہ غلام سکینہ بی بی اپنے فرشتہ سیرت بھائی مکرم بشیر احمد خان جو مورخہ 26 جون 1999 ء سے بہشتی مقبرہ میں آسودہ خاک ہیں سے جاملیں۔دونوں بہن بھائی حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب رفیق حضرت مسیح موعود کی دوسری نسل کے جملہ افرادو خواتین میں اپنے تقویٰ نیکی کے باعث مثالی وجود تھے۔برادرم بشیر احمد خان مرحوم کا ذکر خیر روز نامہ الفضل میں مورخہ 15 نومبر 1999ء کی اشاعت میں آچکا ہے۔خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را آپ کی بستی مندرانی میں احمدیت کا آغاز ذکر ہو بستی مندرانی میں احمدیت کا اور پھر بستی مذکور کی بی بی غلام سکینہ کی خواتین میں پہلی وصیت کا اعزاز پانے والی خاتون کا۔تو ضروری ہے ذکر بستی مندرانی کے اس فرزند احمدیت کا جس نے سب سے پہلے حضرت مسیح موعود کی نہ صرف بیعت کا اعزاز پایا ہو بلکہ بستی مندرانی کے مردوں میں سے سب سے پہلے قادیان میں سلسلہ کی خدمت اور وصیت کی سعادت بھی پائی ہو اس بستی مندرانی کے مخلصین نے اس مخلص بزرگ کی دعوت الی اللہ کے باعث قبول احمدیت کی سعادت پائی۔اس موقع پر ان کا ذکر خیر نہ کرنا انتہائی بے انصافی ہوگی۔بزرگوارم محترم محمد شاہ صاحب والد مکرم محمود شاہ صاحب سکنہ بستی مندرانی جو رشتہ میں خاکسار کے والد محترم مولانا ظفر محمد صاحب ظفر کے ماموں جان تھے۔آپ کو اپنے پیرمیاں رانجھا صاحب کی یہ وصیت تھی کہ میں مرجاؤں گا میرے مرنے کے