یادوں کے دریچے — Page 88
88 کے کھانے پر مدعو کیا ہوا تھا اور مجھے ہدایت کی کہ تم نے گھر سے باہر نہیں جانا۔جب میں بلاؤں تو بیٹھنے والے کمرہ میں آجانا۔کھانے کے بعد جب میرے والد صاحب ، حضرت صاحب کو بیٹھنے والے کمرہ میں لے گئے تو ملازم نے مجھے کہا کہ پیر صاحب نے تمہیں بلایا ہے۔کالج کا زمانہ تھا میں اندر جا کر صوفے پر بیٹھ گیا۔میرے والد نے اشارہ کر کے مجھے پاس بلایا اور کہا کہ تم قالین پر ان کے قدموں کے پاس بیٹھ جاؤ۔پھر ملا زم کو کہا کہ فوٹوگرافر کو بلا لو۔فوراً فوٹوگرافر آیا ، تصویر اتاری۔میں اس وقت آپ کے قدموں میں بیٹھا ہوا تھا۔آپ کے جانے کے بعد میرے والد نے مجھے کہا کہ جن کے قدموں میں میں نے تمہیں بٹھا کر تصویر اتروائی ہے یہ بہت بزرگ اور بہت بڑی حیثیت کے مالک ہیں۔ان کے قدموں میں بیٹھنے کی وجہ سے تمہیں اتنی دولت ملے گی جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔نیز مجھے ہدایت کی کہ احمدیت کی کبھی مخالفت نہ کرنا۔کہنے لگے کہ مجھے اسی وجہ سے اتنی دولت ملی ہے۔مذہبی رواداری آپ نے سکھ گوردواروں کی تعمیر میں چندہ بھی دیا ہے۔” تاریخ احمدیت میں پٹنہ میں گوردوارہ کی تعمیر کے لئے چندہ دینے کا ذکر ہے۔جہاں تک مجھے یاد ہے قادیان میں بھی سکھ گوردوارہ کی تعمیر نو میں آپ نے اپنی طرف سے چندہ دیا تھا۔جیسا کہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ بہت حد تک ذاتی یادوں کا نتیجہ ہے اس لئے لکھتے لکھتے جو بات یاد آئی لکھ دی۔ابھی ایک واقعہ یاد آیا ہے جو پیشگوئی مصلح موعود میں آپ کے سخت ذہین و فہیم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔غیرت دینی کا ایک واقعہ مجلس احرار جن دنوں جماعت کی مخالفت میں پیش پیش تھی جلسے جلوس نکالے جاتے تھے۔ان کے سرکردہ لیڈر اپنی تقریروں میں حضرت مسیح موعود کو نہایت فحش اور گندی گالیاں دیتے تھے۔گوجرانوالہ بھی ان دنوں فحش کلامی کا ایک مرکز تھا۔اس وقت کے امیر جماعت ایک دن