یادوں کے دریچے — Page 89
یا دوں کے در یح 89 حضرت ابا جان سے ملنے تشریف لائے اور ملاقات کے وقت عرض کیا کہ اب تو اتنا گند اچھالا جا رہا ہے کہ برداشت نہیں ہوتا۔میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ حضور سے ہدایت لوں کہ ہم کیا کریں۔آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی آپ کے باپ کو گندی گالیاں دیتا ہو تو کیا آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ کیا کریں فتدبر ! اسی قماش کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے اپنے ایک شعر میں کہا تھا: اسی زباں سے اسی منہ سے گند بگ بگ کر خدا کا نام نہ لو ظالمو! خدا کے لئے غریب احمدیوں کی دلداری مالی سہولت رکھنے والے احمدیوں سے ہی نہیں اپنے عزیز ترین احمدی بھائیوں سے بھی اخوت، دلداری اور مساوات کا سلوک آپ کے اخلاق حسنہ کا ایک دل موہ لینے والا پہلو تھا۔جماعت کے دوستوں کے ساتھ بیٹھتے تو ایسے لگتا تھا جیسے چودھویں کے چاند کے اردگر دستارے ہالہ بنائے بیٹھے ہوں۔یہاں ایک مثال جو مجھے یاد ہے لکھ رہا ہوں۔قادیان میں دار مسیح کی طرف سے مشرق کی طرف سے ایک تنگ گلی جاتی تھی جو چند چھوٹے چھوٹے گھروں پر مشتمل تھی۔تقریباً سب مکان کچے اور ایک ایک کمرہ کے ہی تھے۔ان گھروں میں سے ایک میں ہمارے ایک نہایت غریب احمدی جن کا روزگا راُبلے ہوئے چنے فروخت کر کے اس کی 66199 آمد پر ہی تھا۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کا جو فٹ بال کھیلنے کا میدان تھا اس کے مغربی کو نہ کی طرف بید کا ایک بہت بڑا درخت تھا۔جس کے ارد گرد پختہ اینٹوں کا ایک چبوترہ تھا۔اس پر بیٹھ کر یہ اپنی چھا بڑی لگایا کرتے تھے اور سکول کے بچے چند پیسوں کے چنے ان سے خریدتے۔جہاں تک میرا اندازہ ہے سکول کے وقت میں چند آنوں کے چنے ہی یہ فروخت کر سکتے تھے اور اسی آمد پر ان کا گزارہ تھا۔اگر کوئی اور امداد ان کو ملتی ہو تو مجھے اس کا علم نہیں۔بہر حال انہوں نے حضرت ابا جان کو۔