یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 87 of 117

یادوں کے دریچے — Page 87

یادوں کے دریچ 87 لکھ رہا ہوں۔سید حضرت اللہ پاشا صاحب ( جو حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل کے داماد ہیں ) نے لکھ کر بھجوایا ہے۔آپ نے لکھا ہے حضرت مصلح موعودؓ جب 1955ء میں یورپ کے سفر سے لوٹے تو آپ نے احمد یہ ہال کراچی میں جماعت سے خطاب فرمایا۔جس میں حضور نے فرمایا کہ: مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ یورپ کے ماہر سنگ تراش انسانی معاشرے کے لئے اپنے اس فن کی کیا افادیت سمجھتے ہیں۔اس غرض کے لئے میں نے اٹلی کے مشہور بت ساز سے ملاقات کی اور اُس سے اس فن کے بارے میں گفتگو کی اور میں نے اس کو بتایا کہ اسلام نے کن وجوہ کی بنا پر سنگ تراشی کو منع فرمایا ہے۔اس کے جواب میں اس ماہر سنگ تراش نے میری باتوں کو دلائل سے غلط ثابت کیا۔اس کے ان دلائل کے نتیجہ میں مجھے احساس ہوا کہ جن وجوہات کی بنا پر میں سمجھا تھا کہ سنگ تراشی ممنوع ہے وہ تو درست معلوم نہیں دیتیں۔اس پر مزید غور کی ضرورت ہے تا دلائل سے ثابت کیا جائے کہ سنگ تراشی کی ممانعت اسلام نے کن وجوہات کی بنا پر کی ہے۔“ 66 اس واقعہ کو بیان کرنے سے حضور کا یہ منشاء ہو سکتا ہے کہ ہر چیز کو دلائل کی بنیاد پر پرکھنا چاہئے۔عظیم شخصیتوں کی یہ ایک بنیادی خصوصیت ہوتی ہے۔اس واقعہ سے حضرت مصلح موعودؓ کی عظمت ٹپکتی ہے۔غیروں کی آپ سے عقیدت غیر از جماعت خاندانوں سے ذاتی تعلق کے بارے میں ایک اور بات بھی بڑی دلچسپ ہے۔کراچی کے ایک بڑے امیر اور معزز خاندان کے فرد پیر محفوظ الحق صاحب جو بڑے زمیندار اور بہت سے کارخانوں کے مالک تھے نے ایک مرتبہ مجھ سے ذکر کیا کہ میرے والد بڑے نیک اور دعا گو تھے۔ان کی آپ کے والد صاحب سے کسی دعوت پر ملاقات ہوئی اور وہ بڑے متاثر ہوئے اور انہوں نے آپ سے وعدہ لیا کہ جب بھی کراچی تشریف لائیں میری طرف سے ایک دعوت ضرور قبول فرمائیں۔کہنے لگے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں کالج کی چھٹیوں میں کراچی آیا ہوا تھا۔انہی دنوں حضرت صاحب بھی کراچی تشریف لائے ہوئے تھے۔میرے والد صاحب نے آپ کو دو پہر